உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ الیکشن کو چیلنج دینے والی عرضی پر SC کا سماعت سے انکار

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court) نے اس عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس میں صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے الیکشن کے عمل کو چیلنج دیا گیا ہے۔ عدالت نے اسے خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس عرضی پر سماعت کا کوئی بنیاد نہیں ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ (Supreme Court) نے اس عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس میں صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے الیکشن کے عمل کو چیلنج دیا گیا ہے۔ عدالت نے اسے خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس عرضی پر سماعت کا کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اس عرضی کو آندھرا پردیش کے رہنے والے ایم تروپتی کی طرف سے داخل کیا گیا تھا۔ انہوں نے صدر جمہوریہ الیکشن اور نائب صدر جمہوریہ الیکشن ایکٹ 1952 کے کچھ التزامات کے آئینی جواز کو چیلنج دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔

      ایسی عرضی مت داخل کیا کریں۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے عرضی گزار کو عرضی واپس لینے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ اس عرضی کو آندھرا پردیش کے رہنے والے ایم تروپتی کی طرف سے داخل کیا گیا تھا۔ انہوں نے صدر جمہوریہ الیکشن اور نائب صدر جمہوریہ الیکشن ایکٹ 1952 کے کچھ التزامات کے آئینی جواز کو چیلنج دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔

      اس سے پہلے صدر جمہوریہ-نائب صدر جمہوریہ الیکشن کے آئینی جواز سے متعلق آئینی جواز سے متعلق دہلی ہائی کورٹ میں بھی ایک عرضی داخل کی تھی۔ ہائی کورٹ نے حال ہی میں کہا کہ اس طرح کی عرضی پر صرف سپریم کورٹ ہی فیصلہ لے سکتا ہے۔ جسٹس سنجیو نرولا نے کہا کہ صدر جمہوریہ الیکشن کے متعلق نتیجہ کے اعلان کے بعد واحد علاج الیکشن عرضی کے ذریعہ سے ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، صدر اور نائب صدر جمہوریہ ایکٹ، 1952 کی دفعہ(2) 14 ایسے معاملوں کی سماعت کے لئے سپریم کورٹ کو خصوصی دائرہ اختیار فراہم کرتی ہے۔

      عدالت نے صدر جمہوریہ الیکشن 2022 کے موقع پر دائر عرضی کو خارج کرتے ہوئے مذکورہ تبصرہ کیا تھا۔ عرضی میں پارلیمنٹ اراکین (اراکین پارلیمنٹ) اور اسمبلی اراکین (ایم ایل اے) کے نام ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو کچھ زیر التوا معاملوں کی وجہ سے جیل میں بند ہیں یا جن پر ان کے خلاف فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ وہ ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہ لیں۔ یہ درخواست ایک 70 سالہ سیلف ایمپلائڈ کارپینٹر ستویر سنگھ کے ذریعہ دائر کی تھی، جس نے صدر جمہوریہ عہدے کے لئے الیکشن کرانے کے لئے نامزدگی فارم پیش کیا تھا۔ حالانکہ ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے اسے خارج کردیا تھا۔

      این ڈی اے کے نائب صدر عہدہ کے امیدوار جگدیپ دھنکر نے سپریم کورٹ میں اپنا چیمبر لوٹا دیا ہے۔
      این ڈی اے کے نائب صدر عہدہ کے امیدوار جگدیپ دھنکر نے سپریم کورٹ میں اپنا چیمبر لوٹا دیا ہے۔


      جگدیپ دھنکڑ نے لوٹایا پریکٹس چیمبر

      اس درمیان این ڈی اے کے نائب صدر عہدے کے امیدوار جگدیپ دھنکر (Jagdeep Dhankar) نے سپریم کورٹ میں اپنا چیمبر لوٹا دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی نئی عمارت میں وکیلوں کے لئے چیمبر بنایا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے اس کا نام الاٹمنٹ لسٹ سپریم کورٹ نےجاری کیا تھا۔ یہ اتفاق تھا کہ اس فہرست میں جگدیپ دھنکر کا بھی نام ہے، جو کہ نائب صدر عہدے کے امیدوار ہیں۔ منگل کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر وکاس سنگھ نے سپریم کورٹ کو ایک خط لکھ کر کہا کہ جگدیپ دھنکر اپنا چیمبر لوٹانا چاہتے ہیں۔ ان کا چیمبر کسی اور وکیل کو دیا جاسکتا ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: