உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کی سرزنش کی، کہا- حکومت ہمارے صبر کا امتحان نہ لے

    سپریم کورٹ کی فائل فوٹو۔(Shutterstock)۔

    سپریم کورٹ کی فائل فوٹو۔(Shutterstock)۔

    چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتاکے ذریعے مرکزی حکومت پرسخت تنقیدکی اور خبردارکیا کہ اگرتقرریوں میں نرم رویہ اختیارکیا گیا تو حکومت کے خلاف توہین عدالت سے متعلق کارروائی شروع کی جائے گی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو مرکزی حکومت کو مختلف عدالتی ٹربیونلز میں خالی آسامیاں نہ بھرنے پر سخت سرزنش کی اور کہا کہ اس کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ذریعے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی اور خبردار کیا کہ اگر تقرریوں میں نرم رویہ اختیار کیا گیا تو حکومت کے خلاف توہین عدالت سے متعلق کارروائی شروع کی جائے گی۔
      جسٹس این وی رمنا نے کہا ’’اس عدالت کے فیصلے کا کوئی احترام نہیں ہے۔ آپ ہمارے صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کچھ افراد کی تقرری کی بات کی ہے، لیکن کتنے افراد کی تقرری کی گئی ہے۔ وہ تقرریاں کہاں ہیں؟

      چیف جسٹس این وی رمنا نے خبردار کیا ’’ہمارے پاس تین آپشن ہیں۔ پہلا، ہم قانون پر روک لگادیں۔ دوسرا، ہم عدالتی ٹربیونلز کو بند کرنے کا حکم دیں اور اس کی طاقت ہائی کورٹ کے حوالے کریں۔ تیسرا آپشن یہ ہے کہ ہم خود تقرریاں کردیں‘‘۔
      چیف جسٹس این وی رمنا نے خبردار کیا ’’ہمارے پاس تین آپشن ہیں۔ پہلا، ہم قانون پر روک لگادیں۔ دوسرا، ہم عدالتی ٹربیونلز کو بند کرنے کا حکم دیں اور اس کی طاقت ہائی کورٹ کے حوالے کریں۔ تیسرا آپشن یہ ہے کہ ہم خود تقرریاں کردیں‘‘۔


      چیف جسٹس این وی رمنا نے خبردار کیا ’’ہمارے پاس تین آپشن ہیں۔ پہلا، ہم قانون پر روک لگادیں۔ دوسرا، ہم عدالتی ٹربیونلز کو بند کرنے کا حکم دیں اور اس کی طاقت ہائی کورٹ کے حوالے کریں۔ تیسرا آپشن یہ ہے کہ ہم خود تقرریاں کردیں‘‘۔
      سماعت کے دوران جسٹس راؤ نے یہ بھی کہا کہ عدالتی ٹربیونلز کے ارکان کی تقرری نہ کرکے حکومت نے انہیں غیر موثر بنا دیا ہے۔ مرکزی حکومت کو ایک اور موقع دیتے ہوئے عدالت نے معاملے کی سماعت کے لیے 13 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: