உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    محض Criminal Case چھپانے پر نوکری سے نہیں نکال سکتے، سپریم کورٹ کا اہم تبصرہ: یہاں جانئے سب

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ نے پایا کہ کیس میں ایف آئی آر پون کی درخواست بھرنے کے بعد درج کی گئی تھی۔ اس معاملے کی سماعت کرنے والے ججوں کی بنچ نے کہا کہ ہم نے فوجداری معاملے میں لگائے گئے الزامات کی نوعیت کو بھی مدنظر رکھا ہے جو کہ بہت معمولی جرم تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی. ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی ملازم کو صرف فوجداری مقدمات سے متعلق معلومات چھپانے اور غلط معلومات دینے پر ملازمت سے برخاست نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس اجے رستوگی اور سنجیو کھنہ کی بنچ نے سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اس حقیقت کی پرواہ کئے بغیر کہ کوئی قصوروار قرار دیا گیا ہے یا نہیں محض معلومات چھپانے اور غلط معلومات دینے پر نوکری سے برخاست نہیں کیا جانا چاہیے۔

      ٹی او آئی کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے یہ بات ریلوے پروٹیکشن فورس میں کانسٹیبل کے عہدے پر تعینات پون کمار کی عرضی کی سماعت کے دوران کہی۔ کانسٹیبل پون کمار کو آر پی ایف میں کانسٹیبل کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس دوران جب وہ ٹریننگ کر رہے تھے تو انہیں اس بنیاد پر ہٹا دیا گیا کہ انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
      سپریم کورٹ نے پایا کہ کیس میں ایف آئی آر پون کی درخواست بھرنے کے بعد درج کی گئی تھی۔ اس معاملے کی سماعت کرنے والے ججوں کی بنچ نے کہا کہ ہم نے فوجداری معاملے میں لگائے گئے الزامات کی نوعیت کو بھی مدنظر رکھا ہے جو کہ بہت معمولی جرم تھا۔


      یہ بھی پڑھئے: WhatsApp  پر آرہا ہے نیا فیچر، یوزرس کی چٹنگ ہوگی پہلے سے زیادہ آسان اور مزیدار

      سپریم کورٹ نے 2014 میں اوتار سنگھ بنام یونین آف انڈیا میں دیے گئے فیصلے پر بھروسہ کرتے ہوئے، دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آر پی ایف کانسٹیبل پون کی طرف سے دائر درخواست کو قبول کر لیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں کانسٹیبل پون کمار کی برطرفی کی مانگ کو منظور کر لیا تھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: