உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ کی رائے،10 سال قید کے باوجود اپیلیں زیرالتوا ہوں تو قصورواروں کو دے دینی چاہیے ضمانت

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    بنچ نے کہا کہ ایسے کیسوں کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے جہاں مجرموں نے 14 سال قید کی سزا مکمل کی ہو، اس کے علاوہ ان مجرموں کو رہا کیا جائے جو 10 سال سے زیادہ قید کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | Bihar Sharif | Lucknow
    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو رائے دی ہے کہ ویسے قصوروار جو 10 سال جیل میں گزار چکے ہوں اور ان کی اپیلوں پر مستقبل قریب میں سماعت ہونے کے آثار نہ ہوں تو انہیں ضمانت پر رہا کردیا جانا چاہیے، بشرطیکہ انہیں ضمانت دینے سے انکار کرنے کے دیگر وجوہات نہ ہوں۔

      جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ابھئے ایس اوکا کی بنچ جیل میں بند سزائے عمر قید کے قصورواروں کی درخواستوں پر غور کررہی تھی۔ ان قصورواروں کی اپیل مختلف ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ جمعرات کو سماعت کے دوران، جسٹس متر گورو اگروال نے بنچ کو بتایا کہ سابق عدالتی حکمنامے کے تحت عمرقید کے قصورواروں کی پہچان کرنے کی قواعد کے تعلق میں چھ ہائی کورٹ کی جانب سے حلف نامہ دائر کیا گیا ہے۔

      بنچ نے کہا کہ ایسے کیسوں کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے جہاں مجرموں نے 14 سال قید کی سزا مکمل کی ہو، اس کے علاوہ ان مجرموں کو رہا کیا جائے جو 10 سال سے زیادہ قید کی سزا کاٹ چکے ہیں۔ انہیں مقررہ وقت کے اندر قبل از وقت رہائی پر غور کے لیے حکومت سے رجوع کیا جا سکتا ہے، چاہے اپیل زیر التوا ہو یا نہ ہو۔

      یوپی میں 385 قصوروار 14 سال سے زیادہ وقت سے جیل میں
      چھ ہائی کورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد امیکس کیوری نے کہا کہ 5,740 کیس ایسے ہیں جن میں مجرم کی اپیل زیر التوا ہے۔ بہار میں تقریباً 268 ایسے مجرم ہیں جن کے مقدمات کی قبل از وقت رہائی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کی مشق اڑیسہ اور الہ آباد ہائی کورٹس نے بھی کی تھی۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں سب سے زیادہ اپیلیں زیر التوا ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ہیٹ اسپیچ پر پارٹیوں کی حیثیت مسترد کرنے کا حق نہیں، الیکشن کمیشن نے ظاہر کی مجبوری

      یہ بھی پڑھیں:
      حجاب کیس: سپریم کورٹ نے کہا : تعلیمی اداروں کو ڈریس مقرر کرنے کا اختیار

      یوپی میں 385 قصوروار ہیں، جو 14 سال سے زیادہ وقت سے جیل میں ہیں۔ اس کے بعد بنچ نے کہا کہ متعلقہ اتھاریٹی کی جانب سے فوری اس تعلق سے ضروری قدم اٹھایا جانا چاہیے۔ بنچ نے کہا، ہمیں جیلوں کو بند رکھنے کے مقصد کو دھیان میں رکھنا ہوگا۔ اپیل کی سماعت کے بغیر قصوروار قید میں ہیں۔ لہٰذا یہ مشرق فوری بنیاد پر کی جانی چاہیے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: