உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Supreme Court: سپریم کورٹ نے کہا-دفعہ66اے کے تحت اب بھی کیس درج ہونا تشویش کا موضوع

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    Supreme Court: عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ آفیشل اعلان کے بعد بھی اس دفعہ میں کیس درج کیا جانا حیرت کی بات ہے۔ بنچ نے مرکز کو ریاستوں کے وزرائے اعلیی سے رابطہ کر کے جلد سے جلد مناسب اقدامات کرنے کے لئے کہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | Surat | Lucknow | Hyderabad | Mumbai
    • Share this:
      Supreme Court:سپریم کورٹ نے منگل کو کہا ہے کہ یہ تشویش کا موضوع ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کا سیکشن 66اے اب بھی استعمال کیا جا رہا ہے حالانکہ اسے 2015 میں غیر آئینی قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو تین ہفتوں کے اندر کیس واپس لینے کی ہدایت بھی کی۔

      سیکشن 66 اے کمپیوٹر ڈیوائس کے ذریعے پریشان کرنا، تکلیف، خطرہ، رکاوٹ، توہین، مجرمانہ دھمکی، دشمنی، نفرت یا بد نیتی وغیرہ کے مقصد سے قابل اعتراض پیغامات بھیجنے پر تین سال قید اور جرمانے کا انتظام کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 2015 میں اس پروویژن کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا۔

      سی جے آئی اُدئے اومیش للت اور جسٹس ایس رویندر بھٹ کی بنچ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ریاستوں سے اس پروویژن کا استعمال نہیں کرنے کے لئے کہے۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کے وکیل زوہیب حسین کو متعلقہ ریاستوں کے چیف سکریٹریز سے رابطہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

      سپریم کورٹ نے یہ حکم اس وقت دیا ہے جب عرضی گزار تنظیم پی یو سی ایل کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل سنجے پاریکھ نے شریا سنگھل کیس میں فیصلہ آنے کے بعد بھی آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 66 اے کے تحت درج مقدمات کی تفصیلات پیش کیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Bilkis Bano Case: سپریم کورٹ میں 9 ستمبر کو بلقیس بانو کیس پر ہوگی سماعت،جانیے تفصیلات

      یہ بھی پڑھیں:
      ساڑھے چار لاکھ لوگوں کو ہراکر اس لڑکی نے بنادیا سونے کا ریکارڈ، ملا6 لاکھ روپے کا انعام

      تین ہفتوں کے بعد ہوگی سماعت
      سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ آفیشل اعلان کے بعد بھی اس دفعہ میں کیس درج کیا جانا حیرت کی بات ہے۔ بنچ نے مرکز کو ریاستوں کے وزرائے اعلیی سے رابطہ کر کے جلد سے جلد مناسب اقدامات کرنے کے لئے کہا ہے۔ ساتھ ہی سبھی ریاستوں اور ہائی کورٹ کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: