உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ نے کہا-مندر انتظامیہ کمیٹیاں سیاسی جاگیر نہیں ہوسکتیں

    Youtube Video

    Supreme Court: جسٹس اجئے رستوگی اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے شرڈی کے شری سائی بابا سنستھان ٹرسٹ کی انتظامی کمیٹی سے جڑے معاملے کی سماعت میں یہ ریمارک کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Nashik
    • Share this:
      Supreme Court: سپریم کور ٹ نے کہا ، مندروں کی انتظامی کمیٹیاں سیاسی جاگیر نہیں ہوسکتیں۔ مندروں کی انتظامیہ کو سیاسی اور پارٹی لائن سے الگ کیا جانا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے کسی بھی برسراقتدار جماعت کی جانب سے اپنے ارکان اسمبلی اور پارٹی کارکنوں کو مذہبی ٹرسٹوں کی انتظامی کمیٹی میں شامل کرنے کی روایت کو ناقابل قبول قرار دیا۔

      جسٹس اجئے رستوگی اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے شرڈی کے شری سائی بابا سنستھان ٹرسٹ کی انتظامی کمیٹی سے جڑے معاملے کی سماعت میں یہ ریمارک کیا ہے۔ بنچ نے کہا، اب وقت آگیا ہے جب سیاسی پارٹیوں کو پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر عقیدت مندوں کے مفاد میں پوجا کے مقامات کے انتظامیہ کو مضبوط کرنے کے لئے کام کرنا چاہیے۔ سیاسی قائدین کچھ مندروں خو لے کر اتنے سرگرم کیوں ہوجاتے ہیں اور انتظامیہ کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں؟

      جو بھی انتظامیہ میں آتا ہے، وہ مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے لوگوں کو اس میں شامل کرتا ہے۔ بنچ نے مشاہدہ کیا کہ سائی بابا ٹرسٹ کی انتظامیہ کمیٹی، جسے 13 ستمبر کو بمبئی ہائی کورٹ نے ایک حکم کے ذریعے تحلیل کر دیا تھا، اس میں این سی پی، کانگریس اور شیو سینا کے ارکان شامل تھے۔ مہاراشٹر حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ سے اتفاق کیا اور کہا، ’’مذہبی مقامات کی انتظامی کمیٹیاں سیاسی جاگیر نہیں بن سکتیں‘‘۔

      یہ بھی پڑھیں:
      PFI پر پھر ایکشن: دہلی کے شاہین باغ سمیت 8ریاستوں میں تابڑ روٹ چھاپہ ماری

      یہ بھی پڑھیں:
      ایس ٹی کوٹہ کو 10 فیصد کا تک بڑھانے تلنگانہ حکومت کا اعلان، مرکز کی جانب سے خاموشی

      مہاراشٹر میں ہوئے اقتدار میں تبدیلی کو اس معاملے میں اٹھانا ہوگا قدم
      اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ مہاراشٹر میں سیاسی اقتدار میں تبدیلی آئی ہے، بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ اس کی کوشش نظام کو ہموار کرنے کی ہونی چاہیے تاکہ عوامی ٹرسٹ، جو عبادت گاہوں کا انتظام کرتے ہیں، سیاست دانوں اور پارٹی کارکنوں کے لیے پناہ گاہ نہ بنیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: