உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طلاقہ حسنہ کے خلافSCمیں درخواست، مسلم خاتون نے کیا غیرآئینی قرار دینے کا مطالبہ

    اب طلاق حسنہ کو ختم کرانے کے لئے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست۔

    اب طلاق حسنہ کو ختم کرانے کے لئے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست۔

    پنکی آنند نے بتایا کہ پہلا نوٹس 19 اپریل کو جاری کیا گیا تھا اور اب دوسرا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ کوئی جلدی نہیں، جب عدالت کھلے گی تو سنیں گے۔ پنکی آنند نے کہا کہ تب تک سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ایک درخواست پر فوری سماعت سے انکار کر دیا جس میں طلاق حسنہ اور دیگر تمام قسموں کے یک طرفہ غیر عدالتی طلاق کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ ایسی طلاقیں من مانی اور غیر معقول ہیں اور کئی اسلامی ممالک میں اس پر پابندی بھی ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور بیلا ایم ترویدی کی تعطیلاتی بنچ نے درخواست گزار مسلم خاتون کی وکیل پنکی آنند سے اگلے ہفتے اس معاملے کا ذکر کرنے کو کہا۔

      طلاق حسن میں، طلاق مہینے میں ایک بار بولی یا تحریری طور پر دی جاتی ہے اور یہ تین مہینے تک بولی یا تحریری طور پر دی جاتی ہے۔ اگر اس مدت میں صلح نہ ہو سکے تو تیسرے مہینے میں بول کر یا لکھ کر تیسری بار طلاق دینے کے بعد طلاق ہو جاتی ہے۔ اگر پہلی بار یا دوسری بار بول کر یا تحریری طور پر طلاق دینے کے بعد صلح ہو جائے تو پہلی اور دوسری بار بول کر یا لکھ کر دی گئی طلاق فسخ مان لیا جاتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      آل انڈیا مجلس مشاورت کے زیر اہتمام میٹنگ میں مسلم مسائل سے متعلق تیار کی گئی حکمت عملی

      عرضی میں، درخواست گزار مسلم خاتون نے مرکزی حکومت کو ہدایت دینے کی بھی درخواست کی ہے کہ وہ تمام شہریوں کے لیے جنس اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز سے پاک طلاق کے لیے مساوی بنیادوں اور طریقہ کار کے لیے رہنما خطوط تیار کرے۔ اس معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے سینئر وکیل پنکی آنند نے بنچ کو بتایا کہ درخواست طلاق حسنہ کو چیلنج کرنے سے متعلق ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Juma Masjid 144 جمعہ مسجد کے باہر دفعہ 144 نافذ، تعمیر کے دوران ملا تھا مندر جیسا ڈیزائن

      درخواست گزار کو وکیل کے ذریعے طلاق کے دو نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور تیسرا نوٹس حتمی ہوگا۔ اس پر بنچ نے سوال کیا کہ پہلا نوٹس کب جاری ہوا تھا۔ پنکی آنند نے بتایا کہ پہلا نوٹس 19 اپریل کو جاری کیا گیا تھا اور اب دوسرا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ کوئی جلدی نہیں، جب عدالت کھلے گی تو سنیں گے۔ پنکی آنند نے کہا کہ تب تک سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد بنچ نے درخواست پر اگلے ہفتے سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: