உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Supreme Court: سپریم کورٹ نے تعداد ازدواج اور حلالہ کے خلاف درخواستوں پر مانگا جواب، آئینی بنچ کرے گی سماعت

    ۔سپریم کورٹ آف انڈیا۔

    ۔سپریم کورٹ آف انڈیا۔

    کچھ مسلم خواتین نیسا حسن، شبنم، فرزانہ، سمینہ بیگم کے ساتھ ساتھ وکیل اشونی کمار اُپادھیائے اور محسن قطری نے درخواست دائر کر کے ان روایتوں کی آئینی حقیقت کو چیلنج کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے منگل کومسلم پرسنل لا میں تعدد ازدواج اور حلالہ کی آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر نوٹس جاری کیا ہے۔ بنچ اکتوبر کے دوسرے ہفتے کے بعد سماعت شروع کرے گا۔

      جسٹس اندرا بنرجی، جسٹس ہیمنت گپتا، جسٹس سوریہ کانت، جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس سدھانشو دھولیہ کی آئینی بنچ نے قومی انسانی حقوق کمیشن، قومی خواتین کمیشن اور قومی اقلیتی کمیشن کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا ہے۔ مارچ 2018 میں معاملوں کو تین ججوں کی بنچ کی جانب سے پانچ رکنی بنچ کو بھیجا گیا تھا۔

      کچھ مسلم خواتین نیسا حسن، شبنم، فرزانہ، سمینہ بیگم کے ساتھ ساتھ وکیل اشونی کمار اُپادھیائے اور محسن قطری نے درخواست دائر کر کے ان روایتوں کی آئینی حقیقت کو چیلنج کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ان روایتوں کی حمایت کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔

      کیا ہیں روایات
      شریعت یا مسلم پرسنل لاء کے مطابق مردوں کو تعدد ازدواج کی اجازت ہے۔ یعنی وہ بیک وقت ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ چار بیویاں ہو سکتی ہیں۔ دوسری طرف، حلالہ، ایک ایسا رواج ہے جس میں ایک مسلمان عورت کو اپنے طلاق یافتہ شوہر سے دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دینے سے پہلے دوسرے مرد سے شادی کرنے اور اسے طلاق دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

      درخواست گزاروں کی دلیل
      درخواست گزاروں نے تعدد ازدواج اور حلالہ پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلمان بیویوں کو انتہائی غیر محفوظ اور کمزور بنا دیتے ہیں۔ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ کے سیکشن 2 کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Eidgah Maidan Case: کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ، عیدگاہ گراونڈ پر ہی ہوگا گنیش اتسو

      یہ بھی پڑھیں:
      - Supreme Court: صحافی دہشت گردنہیں ہوتے، جھارکھنڈپولیس کےرویہ پرسپریم کورٹ کا بیان

      جمعیت علما کا موقف
      جمعیت علمائے ہند کی دلیل ہے کہ آئین پرسنل لاء کو نہیں چھوتا ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ ان طریقوں کے آئینی جواز کے سوال کا جائزہ نہیں لے سکتی۔ اس کا استدلال ہے کہ ماضی میں بھی سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس نے متعدد مواقع پر پرسنل لاء کے قبول کردہ طریقوں میں مداخلت کرنے سے انکار کیا ہے۔ طلاق ثلاثہ کیس میں بھی یہی دلیل دی گئی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: