உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر Supreme Court نے جہانگیر پوری میں ایم سی ڈی کی انہدامی کاررائی پر روک لگائی

    جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر سپریم کورٹ نے جہانگیر پوری میں ایم سی ڈی کی انہدامی کاررائی پر روک لگائی

    جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر سپریم کورٹ نے جہانگیر پوری میں ایم سی ڈی کی انہدامی کاررائی پر روک لگائی

    سپریم کورٹ نے بدھ کو شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے فساد زدہ جہانگیر پوری علاقے میں مبینہ تجاوزات کے خلاف شروع کی گئی انہدامی کارروائی پر روک لگانے اور اسے بحالت اصلی برقرار رکھنے کا آج صبح حکم جاری کیا ہے، چیف جسٹس آف انڈیا کے زیرقیادت بنچ نے جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقرر کردہ سینئر وکیل دشینت داوے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔

    • Share this:
    نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے فساد زدہ جہانگیر پوری علاقے میں مبینہ تجاوزات کے خلاف شروع کی گئی انہدامی کارروائی پر روک لگانے اور اسے بحالت اصلی برقرار رکھنے کا آج صبح حکم جاری کیا ہے، چیف جسٹس آف انڈیا کے زیرقیادت بنچ نے جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقرر کردہ سینئر وکیل دشینت داوے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔
    اس پورے معاملے پر نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے جمیعۃ علمائے ہند کے سکریٹری نیازاحمد فاروقی نے کہا آج سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد بھی جہانگیر پوری میں میں کارروائی ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ اس معاملے کو آج بھی ہم نے سپریم کورٹ کے سامنے رکھا تھا کہ انہدامی کارروائی آرڈر آنے کے بعد بھی نہیں روکی گئی ہے، جس پر سپریم کورٹ نے متعلقہ افسران  کو رجسٹرار جنرل کے ذریعے آگاہ کرنے کے لئے کہا تھا۔ تاہم اس معاملے کو ہم دوبارہ سے کل عدالت میں اٹھائیں گے اور ان افسران کو سزا دلانے کے لئے کہیں گے، جنہوں نے عدالت کا حکم صادر ہونے کے بعد بھی انہدامی کارروائی نہیں روکی تھی۔

    واضح رہے کہ جہانگیر پوری دہلی میں فساد زدہ علاقہ کو نشانہ بناتے ہوئے جس طرح شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن نے فوری طور سے انہدام کا اعلان کیا تھا، اس نے ملک میں قانون و انصاف اور جمہوریت کے ماننے والوں کو کافی بے چین کردیا تھا، چنانچہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ کے وکلا نے عرضی تیار کی اور بدھ کو صبح سینئر وکیل دشینت داوے، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ایم آرشمشاد نے جمعیۃ کی طرف سے عرضی داخل کی۔ تنظیم کی طرف سے عرضی گزار مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند ہیں۔

    جمعیۃ علماء ہند کے وکیل دشینت دوے نے اپنی عرضی میں عدالت سے کہا کہ کسی سنگین چیز پر روک لگانے کے لیے آپ کی فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔ جو کچھ جہانگیر پوری میں کیا جارہا ہے وہ مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی عمل ہے، یہ وہ علاقہ ہے جہاں گزشتہ ہفتے فسادات ہوئے تھے۔ تجاوزات کے انہدام سے متعلق ایم سی ڈی نے کوئی نوٹس نہیں دیا، حالانکہ میونسپل کارپوریشن ایکٹ کے تحت اپیل کا بھی انتظام ہے، لیکن اس کا بھی وقت نہیں دیا گیا۔ اس لئے اس غیر قانونی عمل کو روکنے کے لئے عدالت فوری طور سے سماعت کرے اور کوئی فیصلہ سنائے۔ اس کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنانے فوری طور سے اسٹیٹس کو  status quo، کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا، لیکن کورٹ کے فیصلے کے باوجود انہدائی کارروائی جاری رہی، جس کے بعد دوبارہ دشنیت داوے نے کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا اور گہار لگائی کہ بلڈوزر کا استعمال کرتے ہوئے مسمار کرنے کی مہم آج صبح عدالت کی طرف سے دیے گئے حکم کے باوجود جاری ہے۔ اس کی اطلاع پا کر چیف جسٹس آف  انڈیا این وی رمنا نے سپریم کورٹ کے سکریٹری جنرل کو یہ ہدایت دی کہ وہ عدالت کے حکم سے شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کے حکام کو فوری طورواقف کرائیں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    کرتار کاریڈور کے بہانے Pakistan کی ناپاک سازش، خفیہ ایجنسیوں کی نظر میں ہندوستانی زائرین

    سینئر وکیل وشینت داوے نے عدالت کو بتایا کہ "وہ کہتے ہیں کہ آرڈر کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ براہ کرم کچھ کریں، سیکرٹری جنرل سے کہیں "۔ داوے نے مزید کہا، " میڈیا میں بڑے پیمانے پر عدالت کا حکم چلایا گیا، لیکن اس کے باوجود یہ سب جاری ہے۔ یہ درست نہیں ہے! ہم قانون کی حکمرانی میں ہیں "سی جے آئی نے اس سے اتفاق کیا۔ دریں اثنا ایڈوکیٹ آن ریکارڈایم آرشمشاد نے مئیر نارتھ دہلی میونسپل کارپوریشن،این سی ٹی آف دہلی، دلی پولس میں خط لکھ کر سپریم کے فیصلے سے مطلع کیا تا کہ وہ فوری انہدام کو روک دیں۔  ان تمام معاملات پر جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے سپریم کورٹ میں عرضِی گزار رہے مولانا نیاز احمد فاروقی نے بتایا کہ یہ ملک قانون اور اصولوں سے چلتا ہے، لیکن جہانگیرپوری میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ سراسر جبرو استبداد کا معاملہ ہے، غیر قانونی مکان یا دکان توڑنے کا ایک قانونی طریقہ ہوتا ہے، جسے ایم سی ڈی نے نظرانداز کرتے ہوئے کارروائی کی ہے، اس لیے جمعیۃ علماء ہند کو مجبوراً عدالت کا رخ کرنا پڑا۔

    انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اصل مقصد غیر قانونی مکان یا دکان توڑنا نہیں بلکہ ان لوگوں کا حوصلہ توڑنا ہے جنھوں نے فسادیوں سے مقابلہ کیا نیز ایک قوم کو مکمل طور سے مورد الزام ٹھہرانا ہے۔ان تمام صور ت حال پر صدر جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر کل گزشتہ جمعیۃ علماء ہند کا ایک وفد متاثرہ علاقے کا دورہ کرچکا ہے، نیز لوگوں کو انصاف دلانے کے لیے مقدمہ کا بھی اعلان کی جاچکاہے۔ مولانا مدنی نے عدالت کی طرف فوری حکم جاری کیے جانے پر ردعمل کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہندمظلوموں کو انصاف دلانے کی لیے عدالت میں پوری تندہی سے مقدمہ لڑے گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: