ہوم » نیوز » وطن نامہ

مہاراشٹرمیں سیاسی تعطل : سپریم کورٹ آج فلورٹیسٹ کرانے کے متعلق سنائے گا اہم فیصلہ

جسٹس این وی رمن، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس سنجیو کھنہ کی خصوصی بنچ نے پیر کو مسلسل دوسرے دن سبھی متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

  • Share this:
مہاراشٹرمیں سیاسی تعطل : سپریم کورٹ آج فلورٹیسٹ کرانے کے متعلق سنائے گا اہم فیصلہ
مہاراشٹرمیں سیاسی تعطل : سپریم کورٹ آج فلورٹیسٹ کرانے کے متعلق سنائے گا اہم فیصلہ۔(تصویر:نیوز18)۔

سپریم کورٹ مہاراشٹرمیں گورنرکے ذریعہ بی جے پی کو حکومت بنانے کے لئے دعوت دینے کے فیصلے کے خلاف شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کی عرضی پر منگل کو حکم سنائے گی جسٹس این وی رمن، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس سنجیو کھنہ کی خصوصی بنچ نے پیر کو مسلسل دوسرے دن سبھی متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس رمن نے کہا کہ ’’ہم کل صبح ساڑھے دس بجے اس پر اپنا حکم سنائیں گے‘‘ سپریم کورٹ نے اتوار کو ایک خصوصی سماعت میں وزیراعلیٰ فڑنویس اور مہاراشٹر کے گورنر کے درمیان خط وکتابت کے دستاویزات آج ساڑھے دس بجے پیش کرنے کا مرکز کو حکم دیا تھا سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے پیر کو خصوصی بنچ کو وہ دونوں خط سونپے، جس کے ذریعہ گورنر نےوزیراعلیٰ فڑنویس کو حکومت بنانے کے لئے دعوت دی تھی اور بی جے پی لیڈر نے ارکان کی حمایت کا دعوی کیا تھا۔ تشار مہتا نے دلیل دی ہے کہ این سی پی لیڈر اجیت پوار کے ذریعہ 22 نومبر کو گورنر کو سونپے گئے خط میں انہوں نے این سی پی کے پورے 54 رکن اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا۔ خط میں ذکرکیا گیا تھا کہ وہ این سی پی لیجس لیٹرپارٹی کے سربراہ ہیں

سپریم کورٹ: فائل فوٹو

تشار مہتا نے گورنر کوسی ایم فڑنویس کے ذریعہ بھیجے گئے خط کو پڑھا، جس میں قبول کیا گیا کہ ان کے پاس 54 این سی پی اراکین اسمبلی سمیت 170 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل تھی۔انہوں نے کہا کہ ’’گورنر نے ان کے سامنے موجود دستاویزات کی بنیاد پر کارروائی کی۔ عدالت ان کی اہلیت پرسوال نہیں اٹھاسکتی۔‘‘ تشار مہتا نے ابتدا میں ہی واضح کردیا تھا کہ وہ گورنر کے سکریٹری کے طور پر پیش ہورہے ہیں کیونکہ گورنرکوعدالتی کارروائی میں ایک پارٹی کے طورپرنہیں بلایا جاسکتا ہے۔سی ایم فڑنویس کی طرف سے پیش ہورہے سینئروکیل مکل روہتگی نے تشار مہتا کی دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے یہاں کہ گورنر کے پاس جب این سی پی اراکین اسمبلی کا خط تھا تو کیا گورنر کو ہررکن اسمبلی کے پاس جاکر ان کےحمایت کی تصدیق کرنی چاہئے تھی۔

دیویندر فڑنویس نے لیا مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ عہدے کا حلف

شیوسینا کی جانب سے پیش ہورہے سینئر وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ 22 نومبر کی شام 7 بجے ادھوٹھاکرے کی قیادت میں مہاوکاس اگھاڑی گٹھ بندھن کی حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور صبح پانچ بج کر 17 منٹ پر صدر راج ہٹانے کی سفارش کرنے کی جلدبازی کیا تھی۔انہوں نے سوال کیا کہ آخر ان چند گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا کہ کسی کو کچھ نہیں معلوم، وکیل کپل سبل اور این سی پی کی طرف سے پیش ہورہے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے فوراً اکثریت ثابت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگروزیراعلیٰ فڑنویس کے پاس اکثریت ہے تو ان کی حکومت اکثریت ثابت کرنےسےکیوں ہچکچارہی ہے۔

شیو سینا، این سی پی اورکانگریس اپنے اراکین اسمبلی کو لے کرفکرمند۔
اس پر روہتگی نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کا اپنا طریقہ ہے۔ پہلے پروٹیم اسپیکرکی تقرری ہوگی۔ پھرارکان اسمبلی کو حلف دلایا جائے گا۔ اس کےبعد عبوری اسپیکرمقرر کئے جائیں گے پھراپوزیشن لیڈرمنتخب کئے جائیں گے۔ اس کے بعد اعتماد کی تجویزپربحث ہوگی اور پھرووٹنگ ہوگی۔وہیں اجیت پوار کی جانب سے سابق ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل منندر سنگھ نے پیروی کی۔
First published: Nov 26, 2019 09:28 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading