உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Row: سپریم کورٹ میں حجاب پابندی معاملے میں سماعت آج

    کرناٹک حجاب معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت آج۔

    کرناٹک حجاب معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت آج۔

    Hijab Row: بنچ نے کہا تھا کہ خواتین کا حجاب پہننا اسلام کا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔ بنچ نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کا پروویژن درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka | New Delhi | Madhya Pradesh | Uttar Pradesh | Hyderabad
    • Share this:
      Hijab Row: نئی دہلی: سپریم کورٹ میں کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی کو چیلنج دینے والی درخواست کو پیر 29 اگست کو مقرر کیا گیا ہے۔

      حجاب پابندی کو برقرار رکھنے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے 15 مارچ کے فیصلے کو چیلنج دینے والی درخواستوں کو پچھلے سی جے آئی این وی رمنا کے دور میں درج نہیں کیا گیا تھا، حالانکہ مختلف وکیلوں کی درخواستوں کی فوری پوسٹنگ کی مانگ کی گئی تھی۔

      جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سدھانشو دھولیہ کی بنچ حجاب پابندی کو چیلنج دینے والی 23 درخواستوں پر آج پیر کو سماعت کرے گی۔ کچھ مسلم طالبات کے لئے حجاب پہننے کے حق کی مانگ کرتے ہوئے سیدھے سپریم کورٹ کے روبرو رٹ درخواستیں دائر کی ہیں۔

      2 اگست کو سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑہ نے اس وقت کے چیف جسٹس این وی رمنا کے سامنے اس معاملے کا تذکرہ کیا تھا، جنہوں نے جلد ہی بنچ قائم کرنے کا یقین دلایا تھا۔

      13 جولائی کو ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے معاملے کی فوری فہرست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مارچ سے درخواستیں درج نہیں ہوئیں اور طلباء کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے بعد سی جے آئی نے اس معاملے کو اگلے ہفتے درج کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

      یہ درخواستیں کرناٹک ہائی کورٹ کی جانب سے 15 مارچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں، جس میں سرکاری حکم نامہ بتاریخ 05.02.2022 کو برقرار رکھا گیا ہے، جس میں درخواست گزاروں اور ایسی دیگر خاتون مسلم طالبات کو اپنے پری یونیورسٹی کالجوں میں ہیڈاسکارف پہننے سے منع کردیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Hijab Row: سپریم کورٹ میں حجاب پابندی معاملہ میں پیر کو ہوگی سماعت، جانئے پورا معاملہ

      یہ بھی پڑھیں:
      Karnataka:کرناٹک میں مٹھ کے چیف سمیت پانچ کے خلاف پاکسو کے تحت کیس درج،CWC نے کی تھی شکایت

      چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ڈکشٹ اور جسٹس جے ایم قاضی کی فل بنچ نے کہا تھا کہ خواتین کا حجاب پہننا اسلام کا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔ بنچ نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کا پروویژن درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: