جموں وکشمیر میں پاپندیوں کو ختم کرنے کی اپیل پرسپریم کورٹ آج کریگا سماعت

جسٹس ارون مشراکی بینچ معاملہ کی سنوائی کرےگی۔تحسین پوناوالا نےسپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔عرضی میں گرفتار سیاسی لیڈروں کورہاکرنےکی مانگ بھی کی گئی ہے۔ کشمیرکی حقیقت جاننے کے لئے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کابھی مطالبہ کیاگیاہے۔

Aug 16, 2019 09:48 AM IST | Updated on: Aug 16, 2019 09:48 AM IST
جموں وکشمیر میں پاپندیوں کو ختم کرنے کی اپیل پرسپریم کورٹ آج کریگا سماعت

کشمیرمیں پابندیوں کوختم کرنے کی درخواست والی عرضی پرآج سپریم کورٹ میں سماعت۔(تصویر:نیوز18 اردو )۔

کشمیرمیں پابندیوں کوختم کرنے کی درخواست والی عرضی پرآج سپریم کورٹ میں سماعت ہے۔جسٹس ارون مشراکی بینچ معاملہ کی سنوائی کرےگی۔تحسین پوناوالا نےسپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔عرضی میں گرفتار سیاسی لیڈروں کورہاکرنےکی مانگ بھی کی گئی ہے۔ کشمیرکی حقیقت جاننے کے لئے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کابھی مطالبہ کیاگیاہے۔

واضح رہے کہ 13 اگست کو اس سلسلہ میں داخل کردہ ایک عرضداشت پرسماعت کے دوران کورٹ نے حکومت کی عائد کردہ پابندیوں کو ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ معاملہ حساس ہے۔ حکومت کو کچھ اور وقت ملنا چاہئے۔واضح رہے کہ جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے بعد کشیدگی کا ماحول ہے۔ اس کے بعد حکومت نے ریاست میں تمام طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ ہم آپ کو بتادیں کہ جموں وکشمیر تشکیل نوقانون منظور ہونے کے بعد سے حکومت نے احتیاطی طورپرپورے جموں اور سری نگر میں دفعہ 144 لگا رکھی ہے۔ وادی کشمیر میں بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ حکومت نے کئی علاقوں میں موبائل فون کنکشن اور انٹرنیٹ پر روک لگا رکھی ہے۔

Loading...

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ وادی میں کب تک ایسا چلے گا۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیسے ہی صورت حال معمول پر آ جائے گی ساری پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو۔ 1999 سے تشدد کی وجہ سے اب تک وادی میں 44000 لوگ مارے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں اس معاملہ کو لے کر کئی عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک عرضی کانگریس لیڈر تحسین پونہ والا نے دائر کی تھی۔ انہوں نے وادی سے کرفیو ہٹانے کے ساتھ فون، انٹرنیٹ اور نیوز چینل پر عائد سبھی پابندیوں کو ہٹانے کی مانگ کی ہے اورآج اسی عرضی پرسماعت ہوگی۔

Loading...