ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش سیاسی بحران :سپریم کورٹ میں سابق وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی عرضداشت پرسماعت آج

مدھیہ پردیش میں سیاسی سر گرمیاں عروج پر پہنچی گئی ہے۔بی جے پی اور کانگریس دونوں نے ہی اکثریت ثابت کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش سیاسی بحران :سپریم کورٹ میں سابق وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی عرضداشت پرسماعت آج
مدھیہ پردیش : کمل ناتھ حکومت رہی گی برقرار یا ریاست میں کھل جائیگا کمل؟ آج ہوسکتاہے فلور ٹیسٹ

مدھیہ پردیش میں سیاسی سر گرمیاں عروج پر پہنچی گئی ہے۔بی جے پی اور کانگریس دونوں نے ہی اکثریت ثابت کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ گورنر کے حکم کے مطابق پیر کو اسمبلی میں فلور ٹیسٹ ہونا تھا ۔لیکن اسپیکر اسمبلی نے کورونا وائرس کی وباء کے سبب 26 مارچ تک ایوان کی کارروائی  کو ملتوی کرنے کا فیصلہ  کیاہے۔ اس کے بعد بی جے پی سپریم کورٹ پہنچی۔ آج سپریم کورٹ میں  اس معاملے کی سماعت ہونی ہے۔ دوسری طرف گورنر لا ل جی ٹنڈن نے مدھیہ پردیش حکومت اور اسپیکر کو تیسری بار ایک خط لکھا اور منگل کو فلور ٹیسٹ کروانےکی  مانگ کی ہے۔لیکن آج فلور ٹیسٹ ہونے کے امکانات نہیں ہے کیوں کہ اسمبلی کی کارروائی 26 مارچ تک ملتوی کی گئی ہے اور آج  اسمبلی اجلاس کے لئے کوئی ایجنڈہ جاری نہیں کیاگیاہے۔ہم آپ کو بتادیں کہ کانگریس کہہ رہی ہے کہ ہمارے پاس اکثریت ہے ، لیکن فلور ٹیسٹ سےکرانے سے گریز کررہی ہے۔ وہیں بی جے پی کہہ رہی ہے کہ کانگریس کے پاس اکثریت نہیں ہے لیکن بی جے پی عدم اعتماد کی تحریک نہیں لا رہی ہے۔سی ایم کمل ناتھ نے کہا کہ بی جے پی عدم اعتماد کی تحریک لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پاس اکثریت ہےاسی لیے فلور ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ایک دن پہلے ہی انہوں نے کہا تھا کہ وہ فلور ٹیسٹ کے لئے تیار ہیں۔



فلورٹیسٹ میں کیا ہوگا؟

گورنر نے کمل ناتھ حکومت کو تین بار فلور ٹیسٹ کا حکم دیا ہے لیکن وہ اس حکم کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ پیر کو دوبارہ راج بھون پہنچے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ ہمارے پاس ا کثریت نہیں ہے تو وہ عدم اعتماد کی تحریک لاسکتے ہیں۔ مجھے فلور ٹیسٹ کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؟ کمل ناتھ نے کہا کہ 16 ایم ایل اے کا استعفی قبول نہیں کیا گیا ہے اور انہیں آمنے سامنے آنا چاہئے۔

کمل ناتھ نے کہا کہ انہوں نے گورنر سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ آئین کے دائرہ کار سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے کہا ، "میں ان کے خطاب کے لئے ان کا شکریہ ادا کرنے گیا تھا۔" پیر کے روز بھی گورنر سے ملاقات کے بعد ، انہوں نے کہا تھا کہ گورنر نے ان سے صرف ایوان کی کارروائی پر امن طریقے سے چلانے کو کہا ہے۔

مدھیہ پردیش میں کھل جائے گا کمل ؟

کمل ناتھ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اقلیت میں نہیں ہے ، اس کے باوجود وہ فلور ٹیسٹ کروانے سے گریز کررہے ہیں۔ دوسری طرف ، بی جے پی فلور ٹیسٹ کے لئے اپنی تمام تر کوششیں کر رہی ہے۔ آج سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت اور فیصلے سے معلوم ہوگا کہ گورنر کا حکم پر عمل ہوگا یا کمل ناتھ حکومت کا فیصلہ صحیح ہے۔ یہ واضح ہے کہ اگر اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کرایا جاتا ہے تو ، کمل ناتھ حکومت اقتدار سے محروم ہوسکتی ہے۔

کمل ناتھ حکومت کی کہانی اور اعداد شمار کا کھیل

پیر کے روز بی جے پی کے 106 ارکان اسمبلی گڑگاؤں سے بھوپال پہنچے۔ فلور ٹیسٹ کا حکم گورنر نے دیا تھا لیکن اسپیکر نے اسے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا۔ ایوان میں بجٹ اجلاس کے آغاز میں ، جب ہنگامہ برپا ہوا تو گورنر تقریر کررہے تھے۔ گورنر نے امن کی اپیل کی لیکن ہنگامہ رکا نہیں۔ اس کے بعد اسپیکر نے کورونا وائرس کے پھیلنے کا حوالہ دیتے ہوئے ایوان کو 26 تاریخ کے لئے ملتوی کردیا۔ اس کے بعد سابق وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

اسپیکر نے کانگریس کے 22 میں سے 6 ارکان اسمبلی کا استعفیٰ قبول کرلیاہے جس کے بعد پارٹی ارکان کی تعداد 108 ہوگئی ہے۔ بقیہ 16 ایم ایل اے کے استعفوں کو ابھی قبول نہیں کیا جاسکتا ، اگر ان کی بھی گنتی کی جاتی ہے تو حکمراں پارٹی کے ارکان اسمبلی کا نمبر 92 ہے۔ ایوان میں بی جے پی کی تعداد 107 ہے۔ 230 ارکان اسمبلی میں ممبران اسمبلی کی مؤثر طاقت 222 ہے۔ اکثریت کے لئے مطلوبہ تعداد 112 ہے۔ 7 دیگر میں سے 2 ، بی ایس پی کے ایم ایل اے ، ایک ایس پی اور 4 آزاد امیدوار ہیں جنہوں نے کمل ناتھ حکومت کی حمایت کی۔
First published: Mar 17, 2020 08:36 AM IST