اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو لے کر سپریم کورٹ آج سنائے گا فیصلہ

    کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو لے کر سپریم کورٹ آج سنائے گا فیصلہ

    کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو لے کر سپریم کورٹ آج سنائے گا فیصلہ

    کرناٹک میں حجاب تنازعہ اس سال جنوری میں تب شدید ہوگیا تھا جب اوڈوپی کے سرکاری پی یو کالج نے مبینہ طور پر حجاب پہن کر آئیں چھ لڑکیوں کو کلاس روم میں بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | Bangalore [Bangalore]
    • Share this:
      تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگانے کے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر سپریم کورٹ آج جمعرات کو اپنا حتمی فیصلہ دے گا۔ جسٹس ہیمنت گپتا اور سدھانشو دھولیہ کی بنچ اس معاملے میں آج 13 اکتوبر کو اپنا فیصلہ سنائے گی۔ سپریم کورٹ نے اس سے پہلے، حجاب معاملے میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج دینےوالی مختلف درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اس معاملے میں 21 وکیلوں کے درمیان دس دنوں تک بحث چلی تھی۔

      مختلف درخواستوں کے ذریعے پیش کیے گئے دلائل
      درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل دوشینت دوے ڈریس کوڈ والے کرناٹک حکومت کے تعلق سے پی ایف آئی سے اس کے تعلق کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ عدالت عظمیٰ میں دائر مختلف درخواستوں میں سے ایک میں بتایا گیا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ طالبات کو اپنے مذہب پر عمل کرنے دینے میں بھید بھاو برتتے ہیں۔ اس سے قانونی صورتحال بگڑنے کے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک دیگر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں طلبہ و طالبات کو یکسانیت کی بنیاد پر یکساں ڈریس کوڈ پہننا چاہیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      محمد علی شہاب کی کامیابی کی بے مثال کہانی، IPS بننے سے پہلے 21 سرکاری امتحانات کیے پاس!

      یہ بھی پڑھیں:
      چیف جسٹس آف انڈیا کا کیسے ہوتا ہے تقرر؟ کیا جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ بن سکتے ہیں CJI؟

      جنوری میں شدید ہوا تھا حجاب تنازعہ
      بتادیں کہ، کرناٹک ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس جے ایم قاضی کی بنچ نے تسلیم کیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں ڈریس کی تقرری ایک مناسب پابندی ہے۔ جس پر طلبہ اعتراض ظاہر نہیں کرسکتے اور حجاب پر پابندی کو چیلنج دینے والی مختلف درخواستوں کو خارج کردیا تھا۔ کرناٹک میں حجاب تنازعہ اس سال جنوری میں تب شدید ہوگیا تھا جب اوڈوپی کے سرکاری پی یو کالج نے مبینہ طور پر حجاب پہن کر آئیں چھ لڑکیوں کو کلاس روم میں بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انٹری نہیں دیے جانے کو لے کر طالبات کالج کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئیں تھیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: