உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    CAA مظاہرین سے وصولی کے نوٹس کو فوری واپس لے یوگی حکومت - سپریم کورٹ کا فرمان

    جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اتر پردیش حکومت نے خود ملزمین کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کی کارروائی کے لیے شکایت کنندہ، جج اور پراسیکیوٹر کے طور پر کام کیا ہے۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ ’ہمیں دیگر کارروائیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہمیں صرف ان نوٹسز سے تشویش ہے جو دسمبر 2019 میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران بھیجے گئے تھے۔

    جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اتر پردیش حکومت نے خود ملزمین کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کی کارروائی کے لیے شکایت کنندہ، جج اور پراسیکیوٹر کے طور پر کام کیا ہے۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ ’ہمیں دیگر کارروائیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہمیں صرف ان نوٹسز سے تشویش ہے جو دسمبر 2019 میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران بھیجے گئے تھے۔

    جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اتر پردیش حکومت نے خود ملزمین کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کی کارروائی کے لیے شکایت کنندہ، جج اور پراسیکیوٹر کے طور پر کام کیا ہے۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ ’ہمیں دیگر کارروائیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہمیں صرف ان نوٹسز سے تشویش ہے جو دسمبر 2019 میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران بھیجے گئے تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:سپریم کورٹ(Supreme court)نے اتر پردیش کی یوگی حکومت کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں کو سی اے اے کے مظاہرے کے دوران معاوضہ دینے کے لیے نوٹس بھیجا گیا ہے، وہ فوری طور پر واپس لے لی جائے ورنہ ہم خود ایسا کریں گے۔ 2019 میں، شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف مظاہرے کے دوران، مظاہرین نے جان و مال کو نقصان پہنچایا ایسا الزام ہے۔ اتر پردیش میں یوگی حکومت نے ایسے مظاہرین کی نشاندہی کی تھی اور انہیں نقصان کی تلافی کے لیے نوٹس بھیجا تھا۔ اس معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہم اس کارروائی کو واپس لینے کا آخری موقع دے رہے ہیں۔

      سپریم کورٹ نے کہا، آپ کو قانون کے تحت طریقہ پر عمل کرنا ہوگا۔ برائے مہربانی اس کا تجزیہ کیجئے۔ ہم آپ کو 18 فروری تک آخری موقع دے رہے ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو قانون کی خلاف ورزی کرنے والی اس کارروائی کو ہم خود ختم کردیں گے۔ عدالت نے کہا کہ دسمبر 2019 میں شروع کی گئی یہ کارروائی قانون کے خلاف ہے اور اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

      خود ہی درخواست گزار اور منصف
      جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اتر پردیش حکومت نے خود ملزمین کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کی کارروائی کے لیے شکایت کنندہ، جج اور پراسیکیوٹر کے طور پر کام کیا ہے۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ ’ہمیں دیگر کارروائیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہمیں صرف ان نوٹسز سے تشویش ہے جو دسمبر 2019 میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران بھیجے گئے تھے۔ آپ ہمارے احکامات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ آپ اے ڈی ایم کی تقرری کیسے کر سکتے ہیں، جب کہ ہم نے کہا کہ یہ جوڈیشل افسران کو کرنا چاہیے۔ دسمبر 2019 میں جو بھی کارروائی ہوئی وہ اس عدالت کے وضع کردہ قانون کے خلاف تھی۔‘

      833 افراد کے خلاف 106 ایف آئی آر
      سپریم کورٹ پرویز عارف ٹیٹو کی درخواست پر سماعت کررہا تھا۔ درخواست گزار نے 2019 میں سی اے اے احتجاج کے دوران عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے مبینہ مظاہرین کو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس کو منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس طرح کے نوٹس من مانی سے بھیجے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کو بھیجا گیا ہے جو چھ سال قبل 94 سال کی عمر میں فوت ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ اس طرح کے نوٹس 90 سال سے زیادہ عمر کے دو افراد سمیت کئی دوسرے لوگوں کو بھی بھیجے گئے۔

      ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل گریما پرساد، اتر پردیش حکومت کی طرف سے پیش ہوئے، کہا کہ ریاست میں 833 فسادیوں کے خلاف 106 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور ان کے خلاف 274 ریکوری نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 274 نوٹسز میں سے 236 میں ریکوری آرڈرز پاس کیے گئے، جب کہ 38 کیسز بند کیے گئے۔ 2020 میں مطلع کردہ نئے قانون کے تحت، کلیمز ٹریبونل تشکیل دیا گیا ہے، جس کی سربراہی ایک ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج اور اس سے قبل ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ADM) کی سربراہی میں کیا گیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: