سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، آر ٹی آئی کے دائرے میں آئے گا سی جے آئی کا دفتر

دلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے بینچ نے کہا کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کا دفتر آر ٹی آئی کے دائرے میں کچھ شرطوں کے ساتھ آئے گا۔

Nov 13, 2019 03:38 PM IST | Updated on: Nov 13, 2019 03:45 PM IST
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، آر ٹی آئی کے دائرے میں آئے گا سی جے آئی کا دفتر

رنجن گگوئی: فائل فوٹو

نئی دہلی۔  ملک کے چیف جسٹس کا دفتر اب حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے دائرے میں آئے گا۔ حالانکہ، پرائیویسی اور رازداری کا حق برقرار رہے گا۔ سپریم کورٹ کی پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بینچ نے بدھ کو یہ فیصلہ دیا۔ دلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے بینچ نے کہا کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کا دفتر آر ٹی آئی کے دائرے میں کچھ شرطوں کے ساتھ آئے گا۔

عدالت عظمیٰ نے آئین کے آرٹیکل 124 کے تحت یہ فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب کولیجیم کے فیصلوں کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ڈالا جائے گا۔ فیصلہ پڑھتے ہوئے جسٹس رمنا نے کہا کہ آر ٹی آئی کا استعمال جاسوسی کے ذریعہ کے طور پر نہیں کیا جا سکتا ہے۔

Loading...

دراصل، چیف انفارمیشن کمشنر نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کا دفتر آر ٹی آئی کے دائرے میں ہو گا۔ اس فیصلے کو دلی ہائی کورٹ نے بھی صحیح ٹھہرایا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ رجسٹری نے 2010 میں چیلنج کیا تھا۔ تب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پر اسٹے کر دیا تھا۔ پھر اس معاملہ کو آئینی بینچ کے حوالے کر دیا گیا۔ اس بینچ کے دیگر ارکان جسٹس این وی رمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس سنجیو کھنہ ہیں۔

Loading...