ایودھیا میں متنازع زمین رام للا کو، سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی کہیں اور پانچ ایکڑ زمین

عدالت نے شیعہ وقف بورڈ کی مالکانہ حق اور نرموہی اکھاڑے کی عرضی کو خارج کردیا اور واضح کیا کہ مسجد خالی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی تھی اور اس کے نیچے مندر کے باقیات موجود تھے۔

Nov 09, 2019 12:47 PM IST | Updated on: Nov 09, 2019 12:47 PM IST
ایودھیا میں متنازع زمین رام للا کو، سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی کہیں اور پانچ ایکڑ زمین

سپریم کورٹ: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے پانچ سو سال سے زائد پرانے ایودھیا رام جنم بھومی تنازعہ کا آج  تصفیہ کرتے ہوئے متنازعہ اراضی شری رام جنم بھومی نیاس کو سونپنے اور سنی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لئے ایودھیا میں ہی مناسب مقام پر پانچ ایکڑ اراضی دینے کا فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ متنازعہ اراضی شری رام جنم بھومی نیاس کو دی جائے گی اور سنی وقف بورڈ کو اجودھیا میں ہی پانچ ایکٹر اراضی دستیاب کرائے جائے گی۔ گربھ گرہ اور مندر کے احاطے کا باہری حصہ رام جنم بھومی نیاس کو سونپا جائے گا۔

بنچ نے کہا کہ متنازعہ مقام پر رام للا کے جنم کے وافر شواہد ہیں اور اجودھیا میں بھگوان رام کا جنم ہندوؤں کی آستھا کا معاملہ ہے اور اس پر کوئی تنازع نہیں ہے۔ آئینی بنچ میں جسٹس گگوئی کے علاوہ جسٹس شرد اروند، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنذیر شامل ہیں۔ بنچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا کہ مرکزی حکومت تین سے چار مہینوں کے دوران مندر کی تعمیر کے لئے ایک نیاس تشکیل دے اور اس کا انتظام اور ضروری تیاریاں کرے۔

Loading...

عدالت نے شیعہ وقف بورڈ کی مالکانہ حق اور نرموہی اکھاڑے کی عرضی کو خارج کردیا اور واضح کیا کہ مسجد خالی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی تھی اور اس کے نیچے مندر کے باقیات موجود تھے۔ بنچ نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ مندر کو توڑ کر ہی مسجد بنائی گئی تھی۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس معاملے میں صرف آستھا کی بنیاد پر مالکانہ حق کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن تاریخی شواہد سے اشارے ملتے ہیں کہ ہندو مانتے رہے ہیں کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ایودھیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نرموہی اکھاڑے کو مرکزی حکومت کی طرف سے مندر کی تعمیر کے لئے بنائے جانے والے نیاس میں نمائندگی دی جائے گی۔ بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ 2.77 ایکڑ کی پوری متنازعہ اراضی رام مندر کی تعمیر کے لئے دی جائے گی۔

گذشتہ پانچ سو برسوں سے چلے آرہے اس تنازعہ میں 206 سال کے بعد فیصلہ آیا ہے ۔ متنازعہ مقام پر ہندو اور مسلم فریقوں میں مالکانہ حق کا تنازع 1813 میں شروع ہوا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنٔو بنچ نے 30 ستمبر 2010 کو اجودھیا میں متازعہ زمین کو رام للا وراجمان ، نرموہی اکھاڑا اور سنی وقف بورڈ میں برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف عدالت عظمی میں اجازت کی 14 خصوصی عرضیاں دائر کی گئیں۔ عدالت عظمی نے اس معاملے کی سماعت ثالثی کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد شروع کی تھی۔ اس سے پہلے عدالت نے ثالثی کے لئے جسٹس (سبکدوش) محمد ابراہیم کلیم اللہ کی قیادت میں تین رکنی ثالثی پینل تشکیل دیا تھا۔

ثالثی کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد آئینی بنچ نے گزشتہ ستمبر میں اس کی سماعت شروع کی تھی اور لگاتار 40 دن کی سماعت کے بعد گزشتہ 16 اکتوبر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ آئینی بنچ نے سماعت میں سبھی فریقین کو اپنی بات رکھنے کے وافر مواقع دیئے۔ ہندوستانی سیاست پر دہائیوں سے چھائے ہوئے اس تنازع کی سماعت کے دوران رام جنم بھومی پر اپنے دعوے کے حق میں جہاں رام للا وراجمان، نرموہی اکھاڑا، آل انڈیا ہندو مہا سبھا، جنم بھومی پُنر ادّھار کمیٹی اور گوپال سنگھ وشارد نے دلائل پیش کیں، دوسری جانب سنی وقف بورڈ، ہاشم انصاری (مرحوم)، محمد صدیقی، مولانا محفوظ الرحمان، فاروق احمد (مرحوم) اور مصباح الدین نے متنازعہ مقام پر بابری مسجد کے مالکانہ حق کا دعوی کیا۔

Loading...