ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ احتجاج : سپریم کورٹ میں اہم سماعت آج، مصالحت کارداخل کرینگے اپنی رپورٹ

شہریت ترمیمی قانون ، این پی آر اور این آرسی کے خلاف شاہین باغ میں جاری احتجاج اور سڑک بند رکھنے کے معاملہ پر آج سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہونی ہے

  • Share this:
شاہین باغ احتجاج : سپریم کورٹ میں اہم سماعت آج، مصالحت کارداخل  کرینگے اپنی رپورٹ
شاہین باغ احتجاج : سپریم کورٹ میں اہم سماعت آج ، مصالحت کار ،داخل کرینگے اپنی رپورٹ

شہریت ترمیمی قانون ، این پی آر اور این آرسی کے خلاف شاہین باغ میں جاری احتجاج اور سڑک بند رکھنے کے معاملہ پر آج سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہونی ہے۔شاہین باغ کا راستہ خالی کرنے کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے مظاہرین سے بات کرنے کے لئے تین مصالحت کاروں کو مقرر کیا تھا۔جن میں ، سنجے ہیگڈے اور سدھانا رام چندرن نے چار دنوں کے دوران مظاہرین سے بات چیت کرکے راستہ کھولنے کی اپیل کی ہے۔لیکن ہراس بات چیت کا کوئی حل نہیں نکلا۔ دوسری جانب شاہین باغ میں ایک طرف سے سڑک کھولنے کی سفارش پر مظاہرین نے عدالت اور پولیس کی جانب سکیورٹی کی فراہمی کے متعلق تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کرتے ہوئے زیرالتواء رکھا۔جس کے بعد مصالحت کاروں نے اپنی رپورٹ تیار کرلی ہے۔ توقع ہے کہ آج سماعت کے دوران راستہ کھولنے متعلق کوئی فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔


شہریت ترمیمی قانون اور قومی شہری رجسٹر کے خلاف دارالحکومت دہلی کے شاہین باغ میں پچھلے 15 دسمبر سے احتجاجی مظاہرہ جاری ہے: فائل فوٹو


وہیں دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے مقر ر کردہ مصالحت کاروں میں شامل وجاہت حبیب اللہ نے شاہین باغ میں روڈ بلاک کرنے پر عدالت میں حلف نامہ داخل کر دیاہے۔ شاہین باغ مظاہرہ معاملے میں مداخلت کی عرضی دائر کرنے والے سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے متعلقہ علاقے میں پولس نے پانچ جگہ ناکہ بندی کرکے راہ گیروں کو ہونے والی پریشانیوں کی اہم وجہ بتایا ہے۔ حبیب اللہ نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے شاہین باغ علاقے میں دہلی پولس کی پانچ جگہ پر ناکہ بندی کو بے وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہین باغ میں پرامن مظاہرہ ہورہا ہے۔ پولس بند راستے کھولے تو آمدورفت معمول کے مطابق ہوجائے جس سے لوگوںکو پریشانی ہورہی ہے۔انہوں نے شاہین باغ علاقے میں پولس کے ذریعہ راستہ بند کرنا غیرضروری قراردیا اور کہا کہ پولس جانچ کے بعد اسکول وین اور ایمبولنس کو ان سڑکوں سے گذرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے، نیشنل پاپولیشن رجسٹر(این پی آر) اور قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) پر حکومت کو مظاہرین سے بات چیت کرنی چاہئے۔


سادھنا نے شاہین باغ میں کہا ’ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ شاہین باغ چھوڑ کر چلے جاؤ، رام لیلا میدان چلے جاؤ۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ پارک میں چلے جاؤ‘۔ انہوں نے کہا ’ یہ غلط فہمیاں ہم لوگوں کو توڑتی ہیں۔ ہم نے کبھی سڑک کھلوانے کی کوشش نہیں کی۔ یہ افواہ تھی‘۔فائل فوٹو ۔


یاد رہے کہ اس سے پہلے ، سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مصالحت کارسنجے ہیگڈے اور سدھانا رام چندرن گذشتہ اتوار کے روز شاہین باغ پہنچ کر مظاہرین سے بات چیت کی تھی۔ اب انہیں آج اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرینگے۔ اب تمام فریقوں کی نگاہ ایک بار پھر سپریم کورٹ کی طرف ہے۔ مصالحت کاروں کی آمد سے مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نےامید ظاہرکی ہے کہ عدالت ان کے حق میں فیصلہ سنائیگی۔
First published: Feb 24, 2020 08:01 AM IST