உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ میں بنے گی تاریخ، اسی سال 3 ماہ کے وقفے میں ملک کو ملیں گے 3 چیف جسٹس

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    3 CJI in 3 months: ملک کے موجودہ چیف جسٹس این وی رمنا 26 اگست کو ریٹائر ہوں گے۔ اس کے بعد جسٹس ادے یو للت چیف جسٹس بنیں گے، جن کی مدت تقریباً دو ماہ رہے گی۔ 8 نومبر کو ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس دھننجے وائی چندر چوڑ اس کرسی پر بیٹھیں گے۔ وہ تقریباً دو سال تک چیف جسٹس رہیں گے۔ اس سے پہلے 1991 میں نومبر اور دسمبر مہینے کے درمیان سپریم کورٹ میں تین چیف جسٹس بنے تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سال 2022 سپریم کورٹ کے عدالتی حراست میں الگ طریقے سے درج ہونے والا ہے۔ 1950 میں سپریم کورٹ کی تشکیل کے بعد یہ دوسرا موقع ہوگا، جب محض 3 ماہ کے اندر ملک کو تین چیف جسٹس دیکھنے کو ملیں گے۔ اس سے پہلے 1991 میں ہی ایسا ہوا تھا۔ موجودہ چیف جسٹس این وی رمنا 26 اگست کو ریٹائر ہوں گے۔ اس کے بعد جسٹس ادے یو للت چیف جسٹس بنیں گے، جن کی مدت تقریباً دو ماہ رہے گی۔ 8 نومبر کو ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس دھننجے وائی چندر چوڑ اس کرسی پر بیٹھیں گے۔ وہ تقریباً دو سال تک چیف جسٹس رہیں گے۔ اس طرح 76 دنوں کے وقفے پر ملک کو تین چیف جسٹس دیکھنے کو ملیں گے۔

      ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق، اس سے پہلے 1991 میں نومبر اور دسمبر مہینوں کے درمیان سپریم کورٹ میں تین چیف جسٹس بنے تھے۔ جسٹس رنگناتھ مشرا بطور چیف جسٹس آف انڈیا 24 نومبر 1991 کو ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد جسٹس کمل نارائن سنگھ نے یہ عہدہ سنبھالا، لیکن وہ محض 17 دن ہی ملک کے اس سب سے بڑے عدالتی عہدے پر رہے۔ سب سے کم وقت کی مدت کا ریکارڈ انہیں کا نام ہے۔ ان کے ریٹائر ہونے کے بعد 13 دسمبر 1991 کو جسٹس ایم ایچ کانیا نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا۔ تین ماہ کے اندر تین ملک کے چیف جسٹس کا یہ بھلےل ہی دوسرا معاملہ ہو، لیکن ایک سال کے اندر تین چیف جسٹس کئی بار مقرر ہوچکے ہیں۔ 1954 سے شروع ہوا یہ سلسلہ 2017 تک دیکھنے کو ملا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      کانگریس میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کے درمیان TRS کو مضبوط کرنے میں لگے پرشانت کشور 

      سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کا کوئی معمولی مدت کار مقرر نہیں ہے۔ جج سینئرٹی کے بنیاد پر اس عہدے تک پہنچتے ہیں اور 65 سال کی عمر پورا ہونے تک رہتے ہیں۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال مانتے ہیں کہ ہر سپریم کورٹ کے ہر چیف جسٹس کی مدت کار کم از کم 3 سال طے کیا جانا چاہئے۔ اس سے انہیں عدالتی اور انتظامی معاملات کو سمجھنے اور کیسوں کے انبار سے نمٹنے کی پریشانی کو حل کرنے کا وقت مل سکے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کی تین سال کی مدت کولجیم کی سطح پر ہی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔

      ہندوستان ٹائمس سے بات چیت میں اٹارنی جنرل وینو گوپال ججوں کے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وکیل 75-80 سال کی عمر تک وکالت کرتے ہیں تو ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری رائے میں سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سے بڑھاکر 70 کی جانی چاہئے۔ اسی طرح ہائی کورٹ کے ججوں کی عمر کو 62 سے بڑھا کر 67 کردینا چاہئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: