உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ سے یوگی حکومت کو بڑا جھٹکا، CAA مخالف مظاہرین سے وصولےگئےکروڑوں روپئے واپس کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ (Supreme Court) نے جمعہ کو اترپردیش حکومت (UP Government) سے 2019 میں شروع کی گئی کارروائی کے پیش نظر شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے مظاہرین سے برآمد کروڑوں روپئے واپس کرنے کو کہا ہے۔

    سپریم کورٹ (Supreme Court) نے جمعہ کو اترپردیش حکومت (UP Government) سے 2019 میں شروع کی گئی کارروائی کے پیش نظر شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے مظاہرین سے برآمد کروڑوں روپئے واپس کرنے کو کہا ہے۔

    سپریم کورٹ (Supreme Court) نے جمعہ کو اترپردیش حکومت (UP Government) سے 2019 میں شروع کی گئی کارروائی کے پیش نظر شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے مظاہرین سے برآمد کروڑوں روپئے واپس کرنے کو کہا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ (Supreme Court) نے جمعہ کو اترپردیش حکومت (UP Government) سے 2019 میں شروع کی گئی کارروائی کے پیش نظر شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) (CAA) کے مظاہرین سے برآمد کروڑوں روپئے واپس کرنے کو کہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا حکم، یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی دلیل کے جواب میں آیا کہ اس نے سال 2019 میں سی اے اے مخالف احتجاجی مظاہرہ کے خلاف عوامی اور ذاتی جائیداد کو ہوئے نقصان کے لئے شروع کی گئی 274 وصولی نوٹس اور کارروائی واپس لے لی ہے۔

      اس کے جواب میں جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سوریہ کانت کی بینچ نے کہا کہ ریاستی حکومت، کروڑوں روپئے کی پوری رقم واپس کرے گی، جو اس کارروائی کے تحت مبینہ مظاہرین سے وصولی گئی تھی۔ بہرحال، سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کو نئے قانون کے تحٹ مبینہ سی اے اے مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کی آزادی دی ہے۔ واضح رہے کہ عوامی اور ذاتی جائیداد برباد کرنے کے لئے یوپی حوکمت بھرپائی قانون کو 31 اگست 2020 کو مطلع کیا تھا۔ بینچ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل گریما پرساد کی اس دلیل کو خارج کردیا، جس میں کہا گیا تھا کہ مظاہرین اور ریاستی حکومت کو فنڈزکو ڈائریکٹ کرنے کے بجائے کلیمز ٹریبونل سے رجوع کرنا چاہئے۔

      اترپردیش حکومت نے دسمبر 2019 میں مبینہ سی اے اے مخالف مظاہرین کو جاری بھرپائی نوٹس پر کارروائی کی تھی، اس پر ناراض ہوتے ہوئے سپریم کورٹ نے 11 فروری کو یوپی حکومت کو پھٹکار لگائی تھی۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کو آخری موقع دیا تھا کہ وہ اس سے متعلق کارروائی کو واپس لے۔ سپریم کورٹ نے وارننگ دی تھی کہ ریاست کی یہ کارروائی قانون کے خلاف ہے، اس لئے عدالت اسے منسوخ کردے گی۔

      سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ دسمبر 2019 میں شروع کی گئی کارروائی اس قانون کے خلاف ہے، جس کی وضاحت سپریم کورٹ نے کی ہے۔ سپریم کورٹ، پرویز عارف ٹیٹو کی طرف سے دائر عرضی پر سماعت کر رہا تھا۔ عرضی میں گزارش کی گئی تھی کہ مبینہ مظاہرین کو بھیجے گئے نوٹس منسوخ کی جائے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: