ہوم » نیوز » وطن نامہ

مہاراشٹرکے تعطل پرسپریم کورٹ کا فیصلہ :کل شام 5 بجے سے پہلے ہوفلورٹیسٹ

کورٹ نے وزیراعلیٰ فڑنویس کوکل شام 5 بجے تک فلورٹیسٹ کے ذریعہ ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیاہے۔ کورٹ نے کہا کہ شفافیت کے ذریعہ فلورٹیسٹ کرائے جائے اورارکان اسمبلی کو خفیہ ووٹنگ کی اجازت نہیں دی جائیگی

  • Share this:
مہاراشٹرکے تعطل پرسپریم کورٹ کا فیصلہ :کل شام 5 بجے سے پہلے ہوفلورٹیسٹ
سپریم کورٹ: فائل فوٹو

مہاراشٹرمیں گورنرکے ذریعہ بی جے پی کو حکومت بنانے کے لئے دعوت دینے کے فیصلے کے خلاف شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کی عرضی پرسپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنادیاہے۔ کورٹ نے وزیراعلیٰ فڑنویس کوکل شام 5 بجے تک فلورٹیسٹ کے ذریعہ ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیاہے۔ کورٹ نے کہا کہ شفافیت کے ذریعہ فلورٹیسٹ کرائے جائے اورارکان اسمبلی کوخفیہ ووٹنگ کی اجازت نہیں دی جائیگی اور ووٹنگ کا لائیو ٹیلی کاسٹ کرایاجائے گا۔

ممبئی کے حیات ہوٹل میں این سی پی، کانگریس اورشیو سینا کے اراکین اسمبلی کے پریڈ کے دوران سماجوادی پارٹی کے اراکین بھی موجود رہے۔

یادرہے کہ جسٹس این وی رمن، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس سنجیو کھنہ کی خصوصی بنچ نے پیر کو مسلسل دوسرے دن سبھی متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیاتھا اور آج یہ فیصلہ سنایاہے۔ جسٹس رمن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اتوار کو ایک خصوصی سماعت میں وزیراعلیٰ فڑنویس اور مہاراشٹر کے گورنر کے درمیان خط وکتابت کے دستاویزات پیش کرنے کا مرکز کو حکم دیا تھا سالیسیٹرجنرل تشار مہتا نے پیر کو خصوصی بنچ کو وہ دونوں خط سونپے، جس کے ذریعہ گورنر نےوزیراعلیٰ فڑنویس کو حکومت بنانے کے لئے دعوت دی تھی اوربی جے پی لیڈر نے ارکان کی حمایت کا دعوی کیا تھا۔ تشار مہتا نے دلیل دی ہے کہ این سی پی لیڈر اجیت پوار کے ذریعہ 22 نومبر کو گورنر کو سونپے گئے خط میں انہوں نے این سی پی کے پورے 54 رکن اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا۔ خط میں ذکرکیا گیا تھا کہ وہ این سی پی لیجس لیٹرپارٹی کے سربراہ ہیں۔

دیویندر فڑنویس نے لیا مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ عہدے کا حلف

سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے پیر کو خصوصی بنچ کو وہ دونوں خط سونپے، جس کے ذریعہ گورنر نےوزیراعلیٰ فڑنویس کو حکومت بنانے کے لئے دعوت دی تھی اور بی جے پی لیڈر نے ارکان کی حمایت کا دعوی کیا تھا۔ تشار مہتا نے دلیل دی ہے کہ این سی پی لیڈر اجیت پوار کے ذریعہ 22 نومبر کو گورنر کو سونپے گئے خط میں انہوں نے این سی پی کے پورے 54 رکن اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا۔ خط میں ذکرکیا گیا تھا کہ وہ این سی پی لیجس لیٹر پارٹی کے سربراہ ہیں

تشار مہتا نے گورنر کوسی ایم فڑنویس کے ذریعہ بھیجے گئے خط کو پڑھا، جس میں قبول کیا گیا کہ ان کے پاس 54 این سی پی اراکین اسمبلی سمیت 170 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل تھی۔انہوں نے کہا کہ ’’گورنر نے ان کے سامنے موجود دستاویزات کی بنیاد پر کارروائی کی۔ عدالت ان کی اہلیت پرسوال نہیں اٹھاسکتی۔‘‘ تشار مہتا نے ابتدا میں ہی واضح کردیا تھا کہ وہ گورنر کے سکریٹری کے طور پر پیش ہورہے ہیں کیونکہ گورنرکوعدالتی کارروائی میں ایک پارٹی کے طورپرنہیں بلایا جاسکتا ہے۔سی ایم فڑنویس کی طرف سے پیش ہورہے سینئروکیل مکل روہتگی نے تشار مہتا کی دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے یہاں کہ گورنر کے پاس جب این سی پی اراکین اسمبلی کا خط تھا تو کیا گورنر کو ہررکن اسمبلی کے پاس جا کر ان کے حمایت کی تصدیق کرنی چاہئے تھی۔
شیوسینا کی جانب سے پیش ہورہے سینئر وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ 22 نومبر کی شام 7 بجے ادھوٹھاکرے کی قیادت میں مہاوکاس اگھاڑی گٹھ بندھن کی حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور صبح پانچ بج کر 17 منٹ پر صدر راج ہٹانے کی سفارش کرنے کی جلدبازی کیا تھی۔انہوں نے سوال کیا کہ آخر ان چند گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا کہ کسی کو کچھ نہیں معلوم، وکیل کپل سبل اور این سی پی کی طرف سے پیش ہورہے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے فوراً اکثریت ثابت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگروزیراعلیٰ فڑنویس کے پاس اکثریت ہے تو ان کی حکومت اکثریت ثابت کرنے سے کیوں ہچکچارہی ہے۔
اس پر روہتگی نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کا اپنا طریقہ ہے۔ پہلے پروٹیم اسپیکرکی تقرری ہوگی۔ پھرارکان اسمبلی کو حلف دلایا جائے گا۔ اس کےبعد عبوری اسپیکرمقرر کئے جائیں گے پھراپوزیشن لیڈرمنتخب کئے جائیں گے۔ اس کے بعد اعتماد کی تجویزپربحث ہوگی اور پھرووٹنگ ہوگی۔وہیں اجیت پوار کی جانب سے سابق ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل منندر سنگھ نے پیروی کی۔
First published: Nov 26, 2019 10:50 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading