اپنا ضلع منتخب کریں۔

    حجاب معاملہ پر سپریم کورٹ کے دوججوں کی رائےمیں اختلاف، کیااب یہ کیس لارجر بنچ میں پہنچےگا؟

    جس کی بڑے پیمانے پر سماعت ہوسکتی ہے۔

    جس کی بڑے پیمانے پر سماعت ہوسکتی ہے۔

    کچھ وکلاء نے یہ بھی دلیل دی کہ اس معاملے کو پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے پاس بھیج دیا جائے۔ دوسری طرف ریاست کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے دلیل دی کہ کرناٹک حکومت کا حکم مذہبی غیر جانبداری پر مبنی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka | Mumbai | Delhi | Jammu | Hyderabad
    • Share this:
      کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر جمعرات کو بھی کوئی واضح سماعت نہیں ہوپائی۔ دونوں ججوں نے اختلاف رائے کا اظہار کیا۔ یہ معاملہ آج بھی جمود کا شکار رہا کیونکہ سپریم کورٹ کے دو ججوں کی بنچ نے الگ الگ فیصلہ سنایا۔ جہاں جسٹس ہیمنت گپتا نے پابندی کو برقرار رکھا اور فیصلہ دیا کہ حجاب ایک ضروری مذہبی عمل نہیں ہے، وہیں جسٹس سدھانشو دھولیا نے پابندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کی تعلیم سب سے اہم ہے۔

      مذکورہ بنچ نے 10 دن تک اس معاملے میں دلائل سننے کے بعد 22 ستمبر کو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اس ہفتے فیصلہ متوقع تھا کیونکہ جسٹس گپتا اتوار کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔ جو بنچ کی سربراہی کر رہے ہیں۔ جسٹس ہیمنت گپتا نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر 26 اپیلوں کو خارج کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ حجاب اسلام کا لازمی عمل نہیں ہے اور ریاست میں تعلیمی اداروں میں سر پر اسکارف پہننے پر پابندی کی اجازت دی گئی ہے۔ اپنی رائے میں اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس سدھانشو دھولیا نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایک طرف رکھ دیا اور کہا کہ ضروری مذہبی عمل کا پورا تصور تنازعہ کے لیے ضروری نہیں ہے۔

      ’تعلیم خطرے میں پڑ جائے گی‘

      سپریم کورٹ میں دلائل کے دوران درخواست گزاروں کے لیے پیش ہونے والے متعدد وکیلوں نے اصرار کیا کہ مسلم لڑکیوں کو حجاب پہن کر کلاس روم میں جانے سے روکنے سے ان کی تعلیم خطرے میں پڑ جائے گی کیونکہ وہ کلاسوں میں جانا بند کر سکتی ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مختلف پہلوؤں پر بحث کی، جس میں ریاستی حکومت کے 5 فروری 2022 کے حکم پر اسکولوں اور کالجوں میں مساوات، سالمیت اور امن عامہ کو خراب کرنے والے لباس پہننے پر پابندی تھی۔

      کچھ وکلاء نے یہ بھی دلیل دی کہ اس معاملے کو پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے پاس بھیج دیا جائے۔ دوسری طرف ریاست کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے دلیل دی کہ کرناٹک حکومت کا حکم مذہبی غیر جانبداری پر مبنی ہے۔

      اس سال 1 جنوری کو چھ طالبات نے کہا کہ انہیں اُڈپی کے ایک گورنمنٹ پی یو کالج میں حجاب پہن کر کلاس روم میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور داخلہ سے منع کیے جانے پر وہ کالج کے باہر احتجاج کررہی تھیں۔ طلباء نے پریس کانفرنس کی، جہاں ان کا کہنا تھا کہ اجازت مانگی گئی تھی لیکن کالج حکام نے انہیں حجاب کے ساتھ کلاس روم میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔

      آگے کیا ہوگا؟

      انہوں نے کالج حکام کے خلاف احتجاج شروع کر دیا، جو جلد ہی ریاست بھر میں ایک مسئلہ بن گیا۔ کرناٹک کے دیگر قصبوں سے بھی اسی طرح کے مظاہروں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ جوابی کارروائی میں دائیں بازو کی تنظیموں کے ارکان نے زعفرانی شالیں پہننا شروع کر دیں اور مسلم خواتین طالبات کے خلاف احتجاج کیا۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      اسی طرح کی صورتحال بھنڈارکر کے کالج میں بھی سامنے آئی جہاں لڑکیوں نے حجاب کے خلاف احتجاج کے دوران زعفرانی شال پہن کر مارچ کیا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اب یہ معاملہ لارجر بنچ تک پہنچ سکتا ہے، جس کی بڑے پیمانے پر سماعت ہوسکتی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: