ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر بن رہا ہے اڑتا پنجاب، کشمیر کے دو شہروں میں 3.5 کروڑ روزانہ منشیات پرخرچ، سروے میں حیران کن انکشاف

سروے کے انچارج ڈاکٹر یاسر نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ سروے میں نشے کی لت میں پڑے 300 افراد پر تحقیق کی گئی اور یہ پتہ چلا کہ ان دو شہروں میں ہیروئن اور افیم کی دیگر نشہ اور ادویات آسانی سے میسر ہیں۔

  • Share this:
کشمیر بن رہا ہے اڑتا پنجاب، کشمیر کے دو شہروں میں 3.5 کروڑ روزانہ منشیات پرخرچ، سروے میں حیران کن انکشاف
کشمیر بن رہا ہے اڑتا پنجاب، کشمیر کے دو شہروں میں 3.5 کروڑ روزانہ منشیات پرخرچ

سری نگر: گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز نے حال ہی میں سری نگر اور اننت ناگ میں ایک پائلٹ سروے کی، یہ جاننے کے لئے کہ یہاں پر منشیات کا استعمال کس حد تک ہورہا ہے۔ سروے کے نتائج سب کے لئے پریشان کن ثابت ہورہے ہیں۔ سروے کے انچارج ڈاکٹر یاسر نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ سروے میں نشے کی لت میں پڑے 300 افراد پر تحقیق کی گئی اور یہ پتہ چلا کہ ان دو شہروں میں ہیروئن اور افیم کی دیگر نشہ اور ادویات آسانی سے میسر ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلا کہ ان شہروں میں دو فیصد آبادی منشیات میں ملوث ہے۔ روزانہ ساڑھے تین کروڑ روپئے صرف اننت ناگ اور سری نگر میں ہی منشیات کی خرید پر خرچ کئے جاتے ہیں۔


اس سے بڑھ کر پریشانی کا معاملہ یہ ہے کہ منشیات کی لت میں پڑے 45 فیصد افراد اپنی رگوں میں ہیروین انجیکشن کے ذریعے پہنچاتے ہیں اور کئی لوگ ایک ہی سوئی کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں ہیپاٹایٹس سی اور کئی دیگر خطرناک بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر یاسر نے کہا کہ سروے کے دوران انھیں پتہ چلا کہ کئی بچے اس لت میں پڑے ہیں مگر زیادہ تر نوجوان اس کی زد میں ہیں اور وہ بھی پڑھے لکھے اور اچھے ہنر مند نوجوان۔ یعنی جو لوگ سماج میں سب سے زیادہ فایدہ مند ہیں۔ ڈاکٹر یاسر کہتے ہیں کہ منشیات کی لت کووڈ-19 سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ نوجوان نسل کو نگل جاتی ہے۔ سروے میں پایا گیا کہ غلط صحبت، کھیل کود اور دیگر تفریح کے مواقع کی کمی اور ذہنی دباؤ اس لت میں پڑنے کی خاص وجوہات میں شامل ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس سال ابھی تک 208 منشیات کے اسمگلر پولیس کی گرفت میں آئے ہیں۔ حال ہی میں جموں وکشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں منشیات کی ایک بڑی مقدار ضبط کی اور ان معاملوں کے پیچھے پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کو زمہ دار ٹہرایا۔ 10 جون کو پولیس نے کپواڑہ کے ہندواڑہ علاقہ میں 100 کروڑ مالیت کی نشہ آور ادویات اور 1.34 کروڑ روپئے نقدی ضبط کئے۔ کئی لوگوں کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا اور آئی جی پولیس کشمیر وجے کمار کے مطابق یہ منشیات پاکستان میں مقیم دہشت گرد کمانڈروں نے سرحد پار سے بھیجی تھی اور کشمیر کے راستے پنجاب لے جاکر فروخت کی جانی تھی۔


پولیس کے مطابق اس دھندے سے حاصل شدہ رقم سے دہشت گردوں کی فنڈنگ کی جاتی ہے۔ اس کے بعد 27 جون کو کپواڑہ میں پولیس کے مطابق دہشت گردوں کے دو ساتھیوں کو گرفتار کرکے 65 کروڑ روپئے مالیت کی منشیات ضبط کی گئیں۔ ان گرفتاریوں کے بعد سیکورٹی فورسز نے دہشت گردی اور منشیات کے بیچ رشتہ جوڑ دیا، لیکن ادھر ریاست میں ڈرگ پالیسی کے اطلاق اور اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کی کاروائیوں کے باوجود ڈرگ اسمگلروں پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکتا؟ یہ سوال ہر شہری کے لب پر ہے۔ کئی لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث لوگوں کو کئی بار اثر لوگوں کا آشیرواد حاصل ہے۔ وہ سوال پوچھتے ہیں کہ جس وادی میں ہر شخص کی حرکت پر سیکوریٹی فورسز کی نظر ہے۔ وہاں اتنے بڑے ڈرگ اسمگلر کھلے عام اتنا بڑا کاروبار کیسے چلاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر نوجوان نشہ کی لت سے باہر آنا چاہتے ہیں اور انھیں ایک مریض سمجھ کر مدد کی جانی چاہئے اور ساتھ ہی اس زہر کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے۔

First published: Jun 28, 2020 06:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading