ہند پاک بات چیت میں کسی تیسرے کی گنجائش نہیں ، اتفاق ہے تو آئیں ورنہ بات نہیں ہو سکتی: سشما

ہندستان نے پاکستان کو قومی سلامتی کے مشیر کی سطح کی بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے آج صاف طور پر کہہ دیا کہ یہ بات چیت تبھی ہو سکتی ہے جب ہمسایہ ملک واضح یقین دہانی کرائے کہ ہند پاک بات چیت میں حریت جیسے کسی تیسرے فریق کو شامل نہیں کیا جائے گا

Aug 22, 2015 07:44 PM IST | Updated on: Aug 22, 2015 07:54 PM IST
ہند پاک بات چیت میں کسی تیسرے کی گنجائش نہیں ، اتفاق ہے تو آئیں ورنہ بات نہیں ہو سکتی: سشما

نئی دہلی : ہندستان نے پاکستان کو قومی سلامتی کے مشیر کی سطح کی بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے آج صاف طور پر کہہ دیا کہ یہ بات چیت تبھی ہو سکتی ہے جب ہمسایہ ملک واضح یقین دہانی کرائے کہ ہند پاک بات چیت میں حریت جیسے کسی تیسرے فریق کو شامل نہیں کیا جائے گا اور این ایس اے ملاقات کو دہشت گردی کے دائرے تک محدود رکھا جائے گا۔

وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج ہندستان کے رخ کو واضح کرتے ہوئے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز بات چیت کے لئے آنا چاہتے ہیں تو ہم بھی ان بلانے کو تیار ہیں لیکن شملہ اور اوفامعاہدے کی روح کے مطابق اس بات چیت میں کوئی تیسرافریق شامل نہیں ہوگا اور بات چیت دہشت گردی تک محدود رہے گی. انہوں نے کہا کہ مسٹر عزیز اگر اس طرح کی یقین دہانی کراتے ہیں تو ان کا خیر مقدم ہے اور اگر پاکستان اس سے متفق نہیں تو بات نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ شملہ معاہدے میں واضح ہے کہ ہندستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت میں کسی تیسرے فریق کی کوئی گنجائش نہیں اور اوفا معاہدے میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح کی بات چیت دہشت گردی سے منسلک مسئلہ پر ہی ہوگی انہوں نے کہا کہ بھارت کوئی شرط نہیں لگا رہا ہے بلکہ پاکستان کو ان دونوں معاہدوں اور ان میں کہی گئی باتوں کی یاد دلا رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اوفامیں یہ طے کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر سمیت تمام زیر التوا مسائل پر مجموعی طور پر بات چیت کے لیے مناسب ماحول تیار کیا جائے۔ دہشت گردی اورجامع مذاکرات کو الگ الگ رکھنے کا فیصلہ کیا گیاتھا۔اسی کے مطابق دہشت گردی پر بحث کے لئے قومی سلامتی کے مشیر وں کی سطح پر سرحد ی امن کے لیے بی ایس ایف اور پاکستان رینجرز کے سربراہان کے درمیان اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بارے میں بات چیت ہونی ہے۔ ان تینوں میٹنگوں کا ایجنڈا بھی تبھی طے کر دیا گیا تھا۔

Loading...

محترمہ سوراج نے کہا کہ مسٹر عزیز نے آج پریس کانفرنس کرکے ہندستان کا رخ جاننا چاہا تھا ۔ ہم نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے اور اب ہمیں ان کے جواب کا انتظار ہے جس کے لئے ان کے پاس آج رات تک کا وقت ہے۔

اس سے پہلے مسٹر عزیز نے اسلام آباد میں اپنے پریس کانفرنس میں پاکستان کا یہ موقف دہرایا تھا کہ این ایس اے کی سطح کی ملاقات میں دہشت گردی کے علاوہ جموں -كشمير کا مسئلہ رہنا ضروری ہے. ساتھ ہی انہوں نے حریت رہنماؤں سے ملنے کا اپنا ارادہ بھی بار بار ظاہر کیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اب بھی کل کی قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح کی ملاقات کے بارے میں پرامید ہیں۔پاکستان کے پاس اب بھی فیصلہ کرنے کے لئے چند گھنٹے ہیں۔

Loading...