உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تبلیغی جماعت معاملہ : میڈیا کے خلاف عرضی پر مرکزی حکومت کے وکیل نے پانچویں بار مانگی مہلت

    تبلیغی جماعت معاملہ : میڈیا کے خلاف عرضی پر مرکزی حکومت کے وکیل نے پانچویں بار مانگی مہلت

    تبلیغی جماعت معاملہ : میڈیا کے خلاف عرضی پر مرکزی حکومت کے وکیل نے پانچویں بار مانگی مہلت

    چیف جسٹس آف انڈیا نے حکومت کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنر ل آف انڈیا ایڈوکیٹ تشار مہتا کی جانب سے دو ہفتوں کا وقت طلب کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ناراضگی ظاہر کی اور انہیں بتایا کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق آپ پہلے ہی چار مرتبہ وقت طلب کرچکے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    نئی دہلی : کورونا وائرس کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیا کے خلاف مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں داخل پٹیشن پرآج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی ، جس کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے حکومت کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنر ل آف انڈیا ایڈوکیٹ تشار مہتا کی جانب سے دو ہفتوں کا وقت طلب کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ناراضگی ظاہر کی اور انہیں بتایا کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق آپ پہلے ہی چار مرتبہ وقت طلب کرچکے ہیں ، جس پر سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے کہا کہ انہیں مزید دستاویزات داخل کرنے ہیں ، جس کے لئے وقت درکار ہے۔

    چیف جسٹس آف انڈیا وی رمنا کی سربراہی والی تین رکنی بیچ جس میں جسٹس سریہ کانت اور جسٹس اے ایس بوپنا شامل ہیں ، کو سالسٹرجنرل تشارمہتہ نے مطلع کیا کہ حکومت نے اس ضمن میں کچھ پیش رفت کی ہے اور قوانین مرتب کئے ہیں ، جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ اگر آپ یو ٹیوب چینل دیکھو گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ایک منٹ میں کیا کیا دکھایا جاتا ہے، کیا آپ کے پاس ایسا کوئی لائحہ عمل ہے جو اس پر روک لگا سکے یا اس کی فوری جانچ کرسکے؟ چیف جسٹس کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر ایڈوکیٹ تشار مہتا نے کہا کہ حکومت نے میکانزم بنایا ہے اور قوانین میں ترمیم بھی کی ہے ، جس پر جمعیۃ علماء ہند کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بنایا گیا میکانزم کتنا کارگر ثابت ہوگا م اس کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہوگا کیونکہ آج بھی نفرت پر مبنی رپورٹنگ بند نہیں ہوئی ہے۔

    ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے عدالت سے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے کیبل ٹیلی ویژن نیٹورک قانون میں ترمیم کی گئی ہے ۔ لہذا انہیں اجازت دی جائے کہ وہ اس ترمیم شدہ قانون کو چیلنج کرسکیں ۔ ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے کی درخواست کو  چیف جسٹس آف انڈیا نے منظور کرلیا اور چار ہفتوں کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ عمل میں آئی سماعت کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ محمد طاہرحکیم، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ عیسیٰ حکیم و دیگر وکلاء موجود تھے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ سماعت پر عدالت نے مرکزی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ پر اعتراض کیا تھا ، جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ لائیو ٹی وی شو کو روکنے کا حکومت کے پاس کوئی میکانزم نہیں ہے ۔ نیز کوئی بھی پروگرام نشر ہونے سے قبل روکا نہیں جاسکتا ۔ البتہ پروگرام نشر ہونے کے بعد اگر شکایت درج کی جاتی ہے ، تواس کے خلاف کیبل ٹی وی نیٹ ورک قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔

    مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے عدالت کو بتایا تھا کہ لائیو ٹی وی شو اور ٹی وی پر بولنے سے کسی کو روکنے کا مرکزی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ۔ جبکہ مرکزی حکومت نے چند ٹی وی چینلوں پر ایک ہفتہ تک خبریں اور پروگرام نشر کرنے کی پابندی لگائی تھی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: