உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تبلیغی جماعت معاملہ : جمعیت علما ہند نے فاسٹ ٹریک سماعت کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی

    سپریم کورٹ ۔ (فائل فوٹو)۔

    سپریم کورٹ ۔ (فائل فوٹو)۔

    عرضداشت میں مزید لکھا گیا ہے کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے ، جو عوام سے براہ راست جڑا ہوا ہے اور عوام سے جڑے ہونے کی وجہ سے اس کی جلداز جلد سماعت ہونے سے انصاف ہوگا ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : جھوٹ اور نفرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیا کے خلاف مولانا ارشدمدنی صدرجمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں داخل پٹیشن پرجلد از جلد سماعت کئے جانے کے تعلق سے آج ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا سے اس اہم معاملہ کی سماعت جلد از جلد کئے جانے کی درخواست کی ہے۔

    ایڈوکیٹ اعجاز مقبول کے ذریعہ داخل کی گئی درخواست میں درج ہے کہ 13 اپریل 2020 میں پٹیشن داخل ہونے کے بعد سے اس معاملے کی اب تک گیارہ سماعتیں ہوچکی ہیں ، جس کی آخری سماعت2 ستمبر 2021 میں ہوئی ہے اور عدالت کے حکم پر یونین آف انڈیا نے اپنا جواب داخل کردیا ہے ، اسی طرح براڈ کاسٹنگ آرگنائزیشن اور خبروں کو ریگولرائز کرنے والے اداروں نے بھی اپنا جواب داخل کردیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ ملک کی مختلف ہائی کورٹوں میں زیر سماعت عرض داشتوں کو بھی عدالت کے حکم پر یکجا کیا جاچکا ہے ۔

    عرضداشت میں مزید لکھا گیا ہے کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے ، جو عوام سے براہ راست جڑا ہوا ہے اور عوام سے جڑے ہونے کی وجہ سے اس کی جلداز جلد سماعت ہونے سے انصاف ہوگا ۔ عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہونے جارہے ہیں ، فیک نیوز اور نفرت پر مبنی نیوز چینلوں کی وجہ سے امن میں خلل پڑ سکتا ہے ۔ لہذا عدالت کو خصوصی حکم دے کر ایسی خبروں کو کنٹرول کرنا چاہئے جو فیک نیوز اور نفرت آمیز خبریں نشر کررہے ہیں لہذا موجودہ پٹیشن پر جلد از جلد سماعت ہونا وقت کا تقاضہ ہے۔

    واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی ہیں۔ جمعیۃ علماء کی پٹیشن داخل کرنے کے بعد سے ہی فیک نیوز دکھانے والے چینلوں پر لگا م کس گئی تھی اورسماعت کے دوران نیوز چینلوں نے تبلیغی جماعت کے تعلق سے دکھائی گئی خبروں پر معافی مانگی تھی ۔ واضح رہے کہ جمعیۃ کی طرف سے ان سماعتوں میں سینئر وکلاء دشینت دبے اور سنجے ہیگڑے پیش ہوتے رہے ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: