ہوم » نیوز » وطن نامہ

تبلیغی جماعت کورونا تنازع : سپریم کورٹ میں حکومت کا جواب ، میڈیا کو خبریں نشر کرنے کی آزادی

تبلیغی جماعت اور کورونا وائرس کو لے کر جمعیۃ علما ہند کی جانب سے داخل کی گئی عرضی پر سپریم کورٹ میں حکومت ہند نے کسی بھی کارروائی کرنے سے انکار کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کر کے کہا ہے کہ میڈیا کو خبریں نشر کرنے کی آزادی ہے ۔

  • Share this:
تبلیغی جماعت کورونا تنازع : سپریم کورٹ میں حکومت کا جواب ، میڈیا کو خبریں نشر کرنے کی آزادی
سپریم کورٹ میں حکومت کا جواب ، میڈیا کو خبریں نشر کرنے کی آزادی

تبلیغی جماعت اور کورونا وائرس کو لے کر جمعیۃ علما ہند کی جانب سے  داخل کی گئی عرضی پر سپریم کورٹ میں حکومت ہند  نے کسی بھی کارروائی کرنے سے انکار کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کر کے کہا ہے کہ میڈیا کو خبریں نشر کرنے کی آزادی ہے ۔ جمعیۃ علما ہند کی عرضی پر سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت ہوئی ، جس کے دوان عدالت میں مرکزی حکومت نے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے جمعیۃ علما ہند کی عرضداشت کو خارج کئے جانے کی درخواست کی اور کہا کہ میڈیا کو خبریں نشر کرنے کی آزادی ہے ۔ جبکہ نیوز براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن نے بھی حلف نامہ داخل کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ عرضی گزار کو سپریم کورٹ سے شکایت کرنے سے پہلے اس کے سامنے مبینہ فیک نیوز چینلز کی شکایت کرنی چاہئے تھی اور اگر وہ اس پر کارروائی نہیں کرتے تب انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا نا چاہئے تھا۔


پریس کونسل آف انڈیا کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ پرتیش کپور نے کہا کہ ہم نے پچاس ایسے معاملات کا نوٹس لیا ہے اور اس کی جانچ ہورہی ہے اور جلد اس پر فیصلہ جاری کریں گے۔ ایڈوکیٹ بھیمانی نے بھی کہا کہ انہیں بھی فیک نیوز کی سو سے زائد شکایتیں موصول ہوئی ہیں اوروہ اس پر کارروائی کررہے ہیں ، جس پر جمعیۃ علما ہند کی جانب سے بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے ، جسٹس اے ایس بوپننا اور جسٹس رشی کیش رائے پر مشتمل تین رکنی بینچ کو بتایا کہ یہ لوگ کچھ نہیں کررہے ہیں ، دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے ، ابھی تک انہوں نے ایک شکایت پر مثبت کارروائی نہیں کی ، بس عدالت میں بیان دے رہے ہیں کہ جانچ جاری ہے اور عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔


ایڈوکیٹ دوے نے کہا کہ یہ تنظیمیں صرف ایڈوائزری تنظیمیں ہیں ، یہ کوئی ایکشن نہیں لے سکتی ہیں ، صرف حکومت ایکشن لے سکتی ہے ۔ لہذا عدالت کو چاہئے کہ حکومت کو حکم جاری کرے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ایکسپرٹ باڈی کی رائے طلب کررہے ہیں اورایکسپرٹ باڈی کی رائے آنے کے بعد کارروائی کی جائے گی ۔


دوران بحث ایڈوکیٹ دشینت دوے نے عدالت کو بتایا کہ اپریل ماہ میں وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے خود کہا تھا کہ کورونا بیماری کو مذہبی رنگ نہ دیا جائے،  اس کے بعد بھی نیوز چینلز نے اسے مذہبی رنگ دیا ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ایکسپرٹ باڈی کی ضرروت ہے ، جو اس کی جانچ کرے گی ، جس پر ایڈوکیٹ دوے نے کہا کہ ہم اب تک دو ماہ ضائع کرچکے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ رپورٹ طلب کررہے ہیں ، جس پر ایڈوکیٹ دوے نے کہا کہ رپورٹ طلب کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔

جمعیۃ علما ہند کی جانب سے داخل کی گئی عر ضداشت جس میں سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی عرضی گزار بنے ہیں ، پر بحث کرتے ہوئے ایڈوکیٹ دشینت دوے نے عدالت کو بتایا کہ پریس کونسل آف انڈیا اور نیوز براڈ کاسٹرس ایسوسی ایشن صرف ان کے ممبران پر کارروائی کرسکتی ہے ، لیکن اس معاملے میں کئی ایک ایسے ادارے بھی ہیں ، جو ان کے ممبر نہیں ہیں ۔ لہذا ان پر کاررائی کون کرے گا ؟ اس لئے حکومت اس معاملہ میں فیک نیوز چینلز پر کارروائی کرے ۔ ایڈوکیٹ دشینت دے نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملہ میں حکومت بھی کچھ نہیں کررہی ہے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ہمارا تجربہ ہے کہ جب تک ہم حکومت کو حکم  نہیں دیتے ہیں ، حکومت کچھ نہیں کرتی ۔ چیف جسٹس نے یونین آف انڈیا کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ تشار مہتا سے کہا وہ ان کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہے ہیں ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ عدالت جب تک حکومت کو حکم نہیں دیتی کچھ نہیں کرتی ۔

اسی درمیان چیف جسٹس آف انڈیا نے نیوز براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے دریافت کیا کہ آیا یہ معاملہ ان کے پاس بھیجا جاسکتا ہے ، جس پر ایڈوکیٹ دوے نے کہا کہ عدالت کو اس معاملہ پر خود فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کیونکہ اس طرح سے صرف وقت ضائع ہورہا ہے ، جس پر عدالت نے ایڈوکیٹ دوے کو کہا کہ وہ ان کی عرضداشت پر سماعت دو ہفتے کے لئے ملتوی کررہے ہیں اور اس درمیان ایکسپرٹ باڈی اور دیگر اداروں کو ان کی رائے داخل کرنے کا حکم دیا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 08, 2020 01:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading