உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Tablighi Jamaat: دہلی ہائی کورٹ کی دہلی پولیس کو پھٹکار، غیرملکیوں کی رہائش ممنوع تھی تو کرے حلف نامہ داخل!

    دہلی ہائی کورٹ نے معاملے کی مزید سماعت 4 جنوری کو مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں پولیس اسٹیٹس رپورٹس کو ریکارڈ پر لایا جائے۔ ایڈوکیٹ آشیما منڈلا اور منداکنی سنگھ کے توسط سے دائر اپنی درخواست میں دو درخواست گزار فیروز اور رضوان نے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے مجبوری کی وجہ سے تبلیغی اراکین کو پناہ دی تھی۔

    دہلی ہائی کورٹ نے معاملے کی مزید سماعت 4 جنوری کو مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں پولیس اسٹیٹس رپورٹس کو ریکارڈ پر لایا جائے۔ ایڈوکیٹ آشیما منڈلا اور منداکنی سنگھ کے توسط سے دائر اپنی درخواست میں دو درخواست گزار فیروز اور رضوان نے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے مجبوری کی وجہ سے تبلیغی اراکین کو پناہ دی تھی۔

    دہلی ہائی کورٹ نے معاملے کی مزید سماعت 4 جنوری کو مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں پولیس اسٹیٹس رپورٹس کو ریکارڈ پر لایا جائے۔ ایڈوکیٹ آشیما منڈلا اور منداکنی سنگھ کے توسط سے دائر اپنی درخواست میں دو درخواست گزار فیروز اور رضوان نے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے مجبوری کی وجہ سے تبلیغی اراکین کو پناہ دی تھی۔

    • Share this:
      دہلی ہائی کورٹ (Delhi High Court) نے دہلی پولیس (Delhi Police) سے یہ جاننا چاہا کہ کیا ہندوستانی شہریوں پر گزشتہ سال تبلیغی جماعت کے شرکا کی رہائش سے متعلق کوئی ممانعت ہے جو ایک درست ویزا کے ساتھ ملک میں داخل ہوئے تھے جب کہ اس وقت کووڈ۔19 سے متعلق کوئی پابندیاں نہیں تھیں۔ اسی ضمن میں ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے حلف نامہ طلب کیا کہ کیا لاک ڈاؤن کے نفاذ کے دوران ہندوستانی شہریوں کو غیر ملکی شہریوں کو رہائش فراہم کرنے سے منع کیا گیا تھا؟

      اس نے تفتیشی ایجنسی پر اس مخصوص تاریخ کو بتانے کے قابل نہ ہونے پر بھی تنقید کی، جس پر جماعت کے شرکا نے درخواست گزاروں کے احاطے میں پناہ مانگی تھی۔ جسٹس مکتا گپتا نے کہا کہ وہ مواد عدالت کے سامنے رکھے جانے کے بعد مناسب حکم جاری کریں گی۔ جسٹس مکتا گپتا میزبانوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواستوں کے ایک بیچ کی سماعت کر رہی تھی۔

      درست ویز کے حامل غیر ملکیوں کو پناہ دینا جرم؟

      جب کہ ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی کچھ درخواستیں ان افراد کی طرف سے ہیں جنہوں نے ان غیر ملکیوں کو پناہ دی تھی جنہوں نے اس تقریب میں شرکت کی تھی اور کوویڈ 19 کے پھیلنے کے ضمن میں نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سفر نہیں کر سکے تھے۔

      دفعہ 188 (سرکاری ملازم کے ذریعہ جاری کردہ حکم کی نافرمانی)، دفعہ 269 (لاپرواہی سے انفیکشن پھیلنے کا امکان) اور تعزیرات ہند کے دیگر جرائم کے تحت ایف آئی آر درج کی گئیں۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ جب پولیس جائے وقوعہ پر گئی تو مقامی لوگوں نے اس تاریخ کے بارے میں نہیں بتایا کہ حاضرین پوچھے گئے احاطے میں رہائش کے لیے کس تاریخ کو آئے تھے۔ پھر آپ کے افسران آئی او (تفتیشی افسران) بننے کے مستحق نہیں ہیں، عدالت نے جواب دیا جس نے مشاہدہ کیا کہ پولیس غیر ملکی شہریوں کے پاسپورٹ کے اندراجات اور ان کے کال ریکارڈ ڈیٹا کو ان کے مقام کا پتہ لگانے کے لیے چیک کر سکتی تھی۔

      عدالت نے مزید کہا کہ اس سے قبل ادھوری چیزوں کو فائل کرنا مناسب نہیں ہے اور زور دے کر کہا کہ پولیس کو یہ دکھانا ہوگا کہ لاک ڈاؤن کے بعد وہ (شرکا) ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔ وہ درست ویزا کے تحت آئے تھے۔ وہ وہاں رہ رہے تھے تب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ان دفعات کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ تفتیشی ایجنسی نے ایف آئی آر یا چارج شیٹ میں احاطے میں داخلے کی تاریخ نہیں بتائی ہے۔

      ’’بیماری پھیلانے کا الزام غیر حقیقی‘‘

      وکیل نے بتایا کہ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے نظام الدین مرکز کے بارے میں اس کے منتظمین کے خلاف تعزیرات ہند، وبائی امراض ایکٹ وغیرہ کی بعض دفعات کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔ ایک حلف نامہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آیا درخواست گزاروں میں سے کوئی بھی کرائم برانچ کی ایف آئی آر میں ملزم ہے۔ ڈی سی پی کا حلف نامہ اس بات کی بھی نشاندہی کرے گا کہ آیا کسی ہندوستانی شہری کے لیے کسی ایسے غیر ملکی کو اپنی رہائش گاہ پر رکھنے کی کوئی ممانعت تھی جو متعلقہ وقت پر ایک درست پاسپورٹ اور ویزا پر ہندوستان آیا تھا۔

      دہلی ہائی کورٹ نے معاملے کی مزید سماعت 4 جنوری کو مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں پولیس اسٹیٹس رپورٹس کو ریکارڈ پر لایا جائے۔ ایڈوکیٹ آشیما منڈلا اور منداکنی سنگھ کے توسط سے دائر اپنی درخواست میں دو درخواست گزار فیروز اور رضوان نے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے مجبوری کی وجہ سے تبلیغی اراکین کو پناہ دی تھی۔ کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران ان کے پاس کہیں جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ فیروز اور رضوان نے چار خواتین تبلیغی شرکا کو رہائش فراہم کی تھی۔ وہیں دیگر درخواست گزاروں نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ ایف آئی آر یا چارج شیٹ میں ریکارڈ پر کوئی دستاویز موجود نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہوگا کہ وہ کووڈ۔19 سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس لیے ان پر وبائی امراض کے قانون 1897کے تحت بیماری پھیلانے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔

      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: