உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان نے دوحہ میں کیے گئے وعدے کو پورا نہیں کیا! وزیر خارجہ جے شنکر کا آل پارٹی میٹنگ میں اظہارِ خیال

    Youtube Video

    پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈرز کو بریفنگ دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    • Share this:
      وزیر خارجہ ایس جے شنکر S Jaishankar نے کہا کہ طالبان نے دوحہ میں کیے گئے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا جبکہ اس نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے حالات اچھے نہیں ہیں۔پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈرز کو بریفنگ دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوستان نے 15 اگست 2021 سے اب تک 800 سے زائد افراد کو افغانستان سے نکالا ہے۔

      واضح رہے کہ فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان نے دوحہ میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تاکہ افغانستان میں 18 سال سے زیادہ تنازع کے بعد "امن" لایا جا سکے۔ امریکہ اور نیٹو کے اتحادیوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اگر عسکریت پسند معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں تو وہ 14 ماہ کے اندر تمام فوجی واپس بلا لیں گے۔


      حکومت کی بریفنگ کی اہم توجہ جنگ زدہ ملک کے مختلف قصبوں میں انخلاء مشن اور ہندوستانی شہریوں کی حفاظت پر ہے۔

      میٹنگ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ Rajnath Singh، راجیہ سبھا میں قائد ایوان پیوش گوئل Piyush Goyal، پارلیمانی امور کے وزیر پرلہاد جوشی Pralhad Joshi، اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی Mukhtar Abbas Naqvi اور وزیر مملکت برائے خارجہ وی مرلیدھرن V Muraleedharan اور میناکشی لیکھی Meenakashi Lekhi نے شرکت کی۔


      دوحہ معاہدہ کیا ہے؟

      دوحہ معاہدے پر امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد Zalmay Khalilzad اور طالبان کے سیاسی سربراہ ملا عبدالغنی برادر Mullah Abdul Ghani Baradar نے دستخط کیے۔

      معاہدے میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے 135 دنوں کے اندر امریکہ افغانستان میں اپنی افواج کو کم کر کے 8600 کر دے گا ، جبکہ اتحادی بھی اپنی افواج کو تناسب سے کم کریں گے۔

      اس معاہدے میں قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل تھا۔ تقریبا 5000 طالبان قیدیوں اور ایک ہزار افغان سکیورٹی فورس کے قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا۔ امریکہ طالبان کے خلاف پابندیاں بھی اٹھائے گا اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر اس گروپ کے خلاف اپنی علیحدہ پابندیاں ختم کرے گا۔

      معاہدے کے تحت طالبان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ القاعدہ یا کسی دوسرے شدت پسند گروپ کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: