உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شوہر کی موت کے بعد‘مرد‘ بن کر رہی بیوی، 30 سال تک کسی کو بھی نہیں ہوا شک!

    خاتون اپنے شوہر کی موت کے بعد 30 سال تک اپنی پہچان بدل کر جیتی رہی۔ (Credit- Twitter)!

    خاتون اپنے شوہر کی موت کے بعد 30 سال تک اپنی پہچان بدل کر جیتی رہی۔ (Credit- Twitter)!

    Woman Disguised Herself as Man for 30 Years: تمل ناڈو (Tamil Nadu News) کی رہنے والی 57 سال کی ایس پیٹچیامل (S Petchiammal) 30 سال تک مرد بن کر اپنی زندگی جیتی رہی اور کسی کو بھی اس بات کی خبر بھی نہیں ہوئی۔

    • Share this:
      Woman Disguised Herself as Man: پدرانہ معاشرہ (Patriarchy In Society) میں کسی بھی خاتون کا اکیلے اپنی زندگی جینا آج بھی کتنی مشکل بات ہے، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ایک خاتون اپنی شوہر کی موت کے بعد 30 سال (Woman Disguised as Man for 30 Years) تک اپنی پہچان بدل کر جیتی رہی۔ پہچان بھی صرف نام کی نیہں تھی، بلکہ خاتون نے اپنا جنس (جینڈر) تک دنیا کے سامنے بدل لیا۔

      لوگ اپنی لڑائی خود لڑنے کے طریقے نکال لیتے ہیں۔ تمل ناڈو کی رہنے والی ایس پیٹچیامل (S Petchiammal) نے بھی اپنے لئے ایسا ہی ایک طریقہ تب نکال لیا، جب ان کے شوہر ہی موت شادی کے محض 15 دن کے بعد ہوگئی۔ اس وقت ان کی عمر 20 سال تھی اور آگے ایک لمبی زندگی جینے کے لئے  تھی۔ اس وقت ان کی عمر 20 سال تھی اور آگے ایک لمبی زندگی جینے کے لئے تھی۔ ایسے میں انہوں نے ایک ایسا فیصلہ لیا، جو بالکل عام نہیں تھا۔

      30 سال تک بنی رہیں موتھو

      انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، کتنایاکنپٹی گاوں کی رہنے والی پیٹچیامّل نے اپنے شوہر کی موت کے بعد مزدوری کی اور چائے کی دوکانوں پر کام کیا، لیکن انہیں یہاں استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ آخرکار انہوں نے ترچیندر مروگن مندر میں جاکر اپنے بال کٹا لئے اور وہ لڑکوں کی طرح شرٹ اور لنگی پہننے لگیں۔ گزشتہ 20 سال سے وہ واپس اپنے ہی گاوں میں رہ رہی ہیں۔ حالانکہ ان کی بیٹی اور کچھ قریبی رشتہ داروں کے علاوہ یہ بات کسی کو نہیں پتہ ہے کہ وہ موتھو نہیں پیٹچیامّل ہیں۔

      مردوں والے سارے کام کر کمائے پیسے

      پیٹچیامّل نے موتھو بن کر وہ سارے کام کئے، جو مرد کرتے ہیں۔ پینٹر کے طور پر نوکری کی، ٹی ماسٹر اور پراٹھا ماسٹر کے طور پر کام کیا اور کئی بار 100 دن کی روزگار اسکیم میں بھی کام کیا۔ وہ ان سب سے ملنے والے پیسے کو اپنی بیٹی کا مستقبل سیٹ کرنے میں لگاتی رہیں۔ انہوں نے اپنے آدھار کارڈ سے لے کر، ووٹر آئی ڈی اور بینک اکاونٹ میں بھی خود کا نام مرتھو ہی درج کروایا اور مرد کی پہچان کے ساتھ جی رہی ہیں۔ ان کی بیٹی کی شادی بھی ہوچکی ہے، لیکن وہ نہ تو اپنی پہچان نہ ہی کپڑے بدلنے کو راضی ہیں۔ وہ مرتے دم تک اپنی مرد والی پہچان ہی قائم رکھنا چاہتی ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: