ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

مجلس اتحاد المسلمین جیسی جماعتیں ہندو فرقہ پرستی کو فروغ دے رہی ہیں: کانگریس جنرل سکریٹری طارق انور کا بڑا الزام

اے آئی سی سی کے جنرل سیکرٹری طارق انور نےکہا کہ کانگریس پارٹی کیلئے اس طرح کے حالات کوئی نئے نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی 1977 کے لوک سبھا انتخابات میں 9 ریاستوں میں کانگریس کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی۔ واجپئی حکومت کے دوران بھی کانگریس پارٹی کو کئی ریاستوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • Share this:
مجلس اتحاد المسلمین جیسی جماعتیں ہندو فرقہ پرستی کو فروغ دے رہی ہیں:  کانگریس جنرل سکریٹری طارق انور کا بڑا الزام
مجلس اتحاد المسلمین جیسی جماعتیں ہندو فرقہ پرستی کو فروغ دے رہی ہیں: کانگریس جنرل سکریٹری طارق انور کا بڑا الزام

بنگلورو: بنگلورو کے نجی دورے پر آئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے جنرل سیکرٹری طارق انور نے اردو میڈیا سے بات چیت کے دوران ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، کانگریس پارٹی کیلئے پیدا شدہ حالات پر کھل کر گفتگو کی۔ طارق انور نے کہا کہ مودی حکومت نے اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ ملک اس وقت معاشی مسائل سے دوچار ہے۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ کسان سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ چین کی دراندازی پر مرکزی حکومت خاموش ہے۔ طارق انور نے کہا کہ ان حالات میں کانگریس پارٹی حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے، عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ کرناٹک، مدھیہ پردیش میں کانگریس کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے طارق انور نےکہا کہ اقتدار کی طاقت، پیسوں کے بل بوتے پر، ای ڈی، سی بی آئی جیسے اداروں کے غلط استعمال کے ذریعہ بی جے پی اپنی حکومتیں قائم کررہی ہے۔ بہار اور دیگر ریاستوں میں کانگریس پارٹی کی شکست پر طارق انور نےکہا کہ پارٹی موجودہ حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔ پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔


اے آئی سی سی کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ کانگریس پارٹی کیلئے اس طرح کے حالات کوئی نئے نہیں ہیں۔ اس سے  قبل بھی 1977 کے لوک سبھا انتخابات میں 9 ریاستوں میں کانگریس کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی۔ واجپئی حکومت کے دوران بھی کانگریس پارٹی کو کئی ریاستوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 2004 میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے دوران انڈیا شائننگ کی مہم چلائی گئی۔ اس کے باوجود کانگریس کو دوبارہ اقتدار حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کانگریس کیلئے چاہے کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، بھلے ہی بڑے سے بڑے لیڈروں نے پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیا ہو، لیکن کانگریس پارٹی میں وہ طاقت، صلاحیت اور قابلیت موجود ہے کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آنے کی سکت رکھتی ہے۔


 اے آئی سی سی کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ کانگریس پارٹی کیلئے اس طرح کے حالات کوئی نئے نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی 1977 کے لوک سبھا انتخابات میں 9 ریاستوں میں کانگریس کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی۔

اے آئی سی سی کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ کانگریس پارٹی کیلئے اس طرح کے حالات کوئی نئے نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی 1977 کے لوک سبھا انتخابات میں 9 ریاستوں میں کانگریس کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی۔


انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس پارٹی کے مستقبل کے تئیں کافی پُرامید ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں مسلمانوں کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم نواز ہونے کا دعوٰی کرنے والی ایم آئی ایم جیسی پارٹیاں بی جے پی کو فائدہ پہنچا رہی ہیں، ملک میں ہندو کمیونل ازم کو بڑھاوا دے رہی ہیں، لہٰذا مسلمان جذبات سے نہیں ہوش سے کام لیں۔ سابق رکن پارلیمنٹ طارق انور نے کہا کہ بی جے پی مین اسٹریم سے اقلیتوں کو درکنار کرنا چاہتی ہے۔ ملک کی سیاست سے اقلیتوں کو دور رکھنا چاہتی ہے۔ ملک کو بی جے پی کس رخ پر لے جارہی ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ ان حقائق کے باوجود مسلم نواز ہونے کا دعوٰی کرنے والی پارٹی نے بہار میں بی جے پی کو کس طرح فائدہ پہنچایا، اس سلسلے میں تمام مسلمانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

طارق انور نے کہا کہ جذبات سے کھیلنے والی پارٹیوں سے مسلمان ہوشیار رہیں۔ اس موقع پر کانگریس کے ایم ایل اے رضوان ارشد نے کرناٹک میں گئو کشی پر پابندی کے متنازعہ بل کو نافذ کرنے کی بی جے پی حکومت کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ رضوان ارشد نے کہا کہ اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں کانگریس پارٹی نے اس بل کی پرزور طریقہ سے مخالفت کی ہے۔ انہوں نے جے ڈی ایس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک جانب جے ڈی ایس انسداد گئو کشی بل کی مخالفت کررہی ہے تو دوسری جانب کونسل میں کانگریس کے چیئرمین کو ہٹانے کیلئے بی جے پی کا ساتھ دے رہی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 23, 2020 01:07 AM IST