உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Teacher's Day 2021: بدلتے دور کے ساتھ کتنا بدلا استاد-شاگرد کا رشتہ؟

    Teacher's Day 2021: بدلتے دور کے ساتھ کتنا بدلا استاد-شاگرد کا رشتہ؟

    Teacher's Day 2021: بدلتے دور کے ساتھ کتنا بدلا استاد-شاگرد کا رشتہ؟

    Teacher's Day: Teacher's Day: وقت کے ساتھ استاد اور اور شاگرد کے تعلقات میں کتنی تبدیلی آئی ہے، اس پر موضوع پر دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر راجندر گوتم نے نیوز 18 سے خاص بات چیت کی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      Teacher's Day Special, Exclusive: ہندوستان استاد - شاگرد کی روایت کی بے مثال سر زمین ہے۔ قدیم دور سے اب تک یہاں استاد - شاگردوں نے کئی مثالیں قائم کی ہیں۔ حالانکہ، تب اور اب کے معاشرے اور تہذیب میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ یقینی طور پر اس کا اثر استاد اور شاگرد کے درمیان تعلقات پر بھی پڑا ہے۔ استاد اور شاگرد کے رشتے میں کتنی تبدیلی آئی ہے، اس موضوع پر نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر راجندر گوتم نے کہا، ’1974 میں میں نے تدریس شروع کی تھی۔ تب سے آج تک استاد اور شاگرد کے درمیان تعلقات میں کافی تبدیلی آئی ہے۔

      حالانکہ، اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ آج اچھے استاد اور شاگرد کا بحران ہے۔ آج بھی کم وبیش وہی حالت ہے، جو پہلے تھی۔ ہاں، آج کے وقت میں تعلیم کے لئے کیریئر اول  ہے۔ ذاتی زندگی میں خود غرضی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ آج کے وقت میں والدین کی بھی یہی امید ہوتی ہے کہ ان کا بچہ روزگارکے قابل تعلیم حاصل کریں‘۔

      ’پہلے پٹائی کی غلط روایت تھی‘

      پروفیسر راجندر گوتم کہتے ہیں، ’تب اور اب میں ایک اور بڑا فرق یہ آیا کہ تب والدین اپنے بچوں کو اساتذہ کے سامنے پوری طرح سونپ دیتے تھے۔ آج کا ماحول اس کے مخالف ہے۔ بچوں کو تھوڑی ڈانٹ بھی لگ جائے تو والدین خود اساتذہ کے خلاف جارح ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ، پہلے پٹائی کی بہت ہی غلط روایت تھی۔ اس روایت کے ساتھ کئی اساتذہ طلبا کے ساتھ بے رحمی سے پیش آتے تھے، لیکن یہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ اساتذہ طلبا کو منمانی کرنے کی پوری چھوٹ دے دیں۔ حقیقت میں آج ایسا ہی ہے۔ آج کوئی بھی استاد طلبا کی غلطی کو صرف دیکھ سکتا ہے، اسے کچھ بول نہیں سکتا۔

      اساتذہ کے تئیں نافرمانی میں اضافہ ہوا

      پروفیسر گوتم بتاتے ہیں کہ آج اساتذہ کے تئیں نافرمانی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ دونوں طرف سے انحراف ہے۔ مادیت پسند معاشرے میں تابعیت پسندی بنیادی ہدف بن چکا ہے۔ نافرمانی نہ صرف اساتذہ کے تئیں بلکہ خاندان کے اندر بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’اپنوں کے درمیان بھی نافرمانی بہت نچلی سطح پر آگئی ہے۔ دوسری طرف اس کے لئے اساتذہ بھی ذمہ دار ہیں۔ مجھے 42 سال کے اپنے تعلیمی مدت میں کبھی نافرمانی سے متعلق پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: