ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے اساتذہ تنخواہ سے محروم، بنگلورو میں ٹیچروں نے ترکاری کاٹھیلا لگا کر احتجاج

پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے ٹیچروں نےکہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے انہیں تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ اگر تنخواہیں مل بھی رہی ہیں تو آدھی ادھوری تنخواہیں مل رہی ہیں۔ کورونا وبا اور لاک ڈاون کے سبب کئی پرائیویٹ اسکولوں کی انتظامیہ تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

  • Share this:
پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے اساتذہ تنخواہ سے محروم، بنگلورو میں ٹیچروں نے ترکاری کاٹھیلا لگا کر احتجاج
بنگلورو میں ٹیچروں نے ترکاری کاٹھیلا لگا کر احتجاج کیا

بنگلورو: کرناٹک میں ٹرانسپورٹ ملازمین کی ہڑتال کے بعد ٹیچرز بھی اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج پر اتر آئے ہیں۔ بنگلورو کے فریڈم پارک میں ہزاروں کی تعداد میں ٹیچروں نے اپنا احتجاج درج کیا۔ پرائیویٹ اسکولوں کے ان ٹیچروں نے اپنی معاشی حالت زار کا اظہار کرنے کیلئے علامتی طور پر ترکاری کے ٹھیلوں کے ساتھ احتجاج کیا۔ اس کے ذریعہ حکومت اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے ٹیچروں نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے انہیں تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ اگر تنخواہیں مل بھی رہی ہیں تو آدھی ادھوری تنخواہیں مل رہی ہیں۔ کورونا وبا اور لاک ڈاون کے سبب کئی نجی اسکولوں کی انتظامیہ تنخواہیں ادا کرنے سے  قاصر ہیں۔ ٹیچروں نے کہا کہ ان حالات میں مدد کیلئے حکومت کو آگے آنا چاہئے تھا لیکن نجی اسکولوں کے ٹیچروں کی جانب اب تک کسی بھی طرح کی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس لئے وہ آج احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ٹیچروں کے اس احتجاج کی قیادت کررہے ایم ایل سی پٹنا نے کہا کہ ٹیچروں کے مطالبات جائز ہیں۔ اس سلسلے میں وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا سے درخواست کی گئی۔


 ٹیچروں نے کہا کہ ان حالات میں مدد کیلئے حکومت کو آگے آنا چاہئے تھا لیکن نجی اسکولوں کے ٹیچروں کی جانب اب تک کسی بھی طرح کی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس لئے وہ آج احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔
ٹیچروں نے کہا کہ ان حالات میں مدد کیلئے حکومت کو آگے آنا چاہئے تھا لیکن نجی اسکولوں کے ٹیچروں کی جانب اب تک کسی بھی طرح کی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس لئے وہ آج احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔


وزیر اعلی نے مطالبات پر غور کرنے کا بھروسہ دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے ایک وفد کی بھی ٹیچروں سے ملاقات کی بات ہوئی تھی۔ لیکن حکومت نے اب تک کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ پٹنا نے کہا کہ وہ آج علامتی طور پر احتجاج کررہے ہیں آنے والے دنوں میں یہ احتجاج شدت اختیار کریگا۔ نجی اسکولوں کی انتظامیہ کی ایسوسی ایشن کے تحت ہوئے اس احتجاج میں بنگلورو کے علاوہ دیگر شہروں  کے ٹیچروں نے بھی حصہ لیا۔ پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کی انتظامیہ ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کئے گئے اہم مطالبات کچھ یوں ہیں۔

وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے مطالبات پر غور کرنے کا بھروسہ دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے ایک وفد کی بھی ٹیچروں سے ملاقات کی بات ہوئی تھی۔ لیکن حکومت نے اب تک کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے مطالبات پر غور کرنے کا بھروسہ دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے ایک وفد کی بھی ٹیچروں سے ملاقات کی بات ہوئی تھی۔ لیکن حکومت نے اب تک کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا ہے۔


کورونا وبا اور لاک ڈاون سے معاشی طور پر پریشانی کا سامنا کررہے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کیلئے مالی مدد جاری کی جائے۔ تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کیلئے انشورنس اسکیم شروع کی جائے۔ ٹیچروں کو کورونا وارئررس کا درجہ دیا جائے۔ کورونا کی ویکسین مفت طور پر تدریسی اور غیر تدریسی عملے میں ترجیحی بنیاد پر تقسیم کرنے کا حکومت اعلان کرے۔ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کیلئے حکومت کی جانب سے راشن کٹس فراہم کئے جائیں۔ نجی اسکولوں میں داخلہ فیس میں رعایت، حکومت کے دیگر اعلانات کے سلسلے میں واضح احکامات جاری کئے جائیں۔ ٹیچروں اور تعلیمی اداروں کے مسائل پر غور و خوض کرنے کیلئے فوری طور اجلاس طلب کیا جائے۔ اس طرح کے کئی مطالبات کے ساتھ نجی اسکولوں کے ٹیچروں نے بنگلورو میں پرزور طریقہ سے اپنا احتجاج درج کیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 17, 2020 12:00 AM IST