உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Make In India: ہندوستانی فوج کامنفرداقدام، سرحدپر نگرانی کےلیےمصنوعی ذہانت پرمبنی سافٹ ویئرکی تیاری

    ہندوستانی فوج کامنفرداقدام

    ہندوستانی فوج کامنفرداقدام

    یہ سافٹ ویئر ایل اے سی کے قریب آنے والے چینی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) اہلکاروں کی شناخت میں مدد کر سکتا ہے۔ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہندوستانی سرحد پر کسی بھی طرح کی دخلی اندازی نہ ہو اور اس کے ذریعہ ملکی سرحد کی حفاظت کی جاسکے۔

    • Share this:
      ہندوستانی فوج نے سرحد پر نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔ جسے مشرقی سیکٹر میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ چینی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے دستوں کی مسلسل مشقوں اور گشت کی سرگرمیوں کو قریب سے نشانہ بنایا کیا جا سکے۔

      پچھلے ہفتے مشرقی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل منوج پانڈے Manoj Pande نے کہا تھا کہ پی ایل اے نے مشرقی سرحدوں پر ایل اے سی کے ساتھ سالانہ تربیتی مشقوں کی تعداد اور مدت میں اضافہ کیا ہے اور اس نے گہرائی والے علاقوں میں اپنی کچھ ریزرو فارمیشنوں کو بھی تعینات کرنا جاری رکھا ہے۔

      چینی سرگرمیوں کو ٹریک کرنے کے لیے فوج نے مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ٹیکنالوجیز کے ساتھ  یہ سافٹ ویئر تیار کیا ہے۔
      چینی سرگرمیوں کو ٹریک کرنے کے لیے فوج نے مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ٹیکنالوجیز کے ساتھ یہ سافٹ ویئر تیار کیا ہے۔


      انھوں نے ایل اے سی پر چینی گشتی سرگرمیوں میں اضافے کا اعتراف بھی کیا اور کہا کہ مقامی کمانڈروں نے مقررہ پروٹوکول کے مطابق ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ ہونے والے کوئی بھی تصادم کو حل کیا جائے گا۔

      ان چینی سرگرمیوں کو ٹریک کرنے کے لیے فوج کی مقامی اختراعات کو مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ٹیکنالوجیز کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر میجر بھاویہ شرما نے چہرہ پہچاننے والا سافٹ ویئر تیار کیا ہے، جسے PLA سپاہیوں کو ٹریک کرنے کے لیے LAC کے قریب تعینات کیا گیا ہے۔

      میجر شرما Manoj Pande کا تعلق 5 ماؤنٹین ڈویژن کی سگنلز رجمنٹ سے ہیں۔ یہ خطے میں تعینات دو ڈویژنوں میں سے ایک ہے جو حساس توانگ سیکٹر اور LAC کی دیکھ بھال کرتے ہیں جو اس سیکٹر سے متصل ہے۔ توانگ ضلع میں ایل اے سی کے ساتھ بنیادی طور پر تین متنازعہ علاقے ہیں۔ جس میں نمکا چو ویلی، سمڈورونگ چو اور یانگسی شامل ہیں جہاں دونوں طرف سے فوج گشت کرتے نظر آتے ہیں۔

      جسے PLA سپاہیوں کو ٹریک کرنے کے لیے LAC کے قریب تعینات کیا گیا ہے۔
      جسے PLA سپاہیوں کو ٹریک کرنے کے لیے LAC کے قریب تعینات کیا گیا ہے۔


      یہ سافٹ ویئر ایل اے سی کے قریب آنے والے چینی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) اہلکاروں کی شناخت میں مدد کر سکتا ہے۔ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہندوستانی سرحد پر کسی بھی طرح کی دخلی اندازی نہ ہو اور اس کے ذریعہ ملکی سرحد کی حفاظت کی جاسکے۔

      یہ سافٹ ویئر "Python" لینگویج کوڈ استعمال کرتا ہے اور اس میں دو ماڈیولز شامل ہیں۔ جس میں چہرے کی ناخت اور لائیو فیڈ، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا اسٹیل امیج پر چہرے کی شناخت کے لیے AI کمپیوٹر وژن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔ اپریل میں تیار کیے گئے اس سافٹ ویئر کی قیمت 5,000 روپے ہے اور یہ انٹرنیٹ کے بغیر کام کر سکتا ہے۔

      فوج کے ذریعہ مقامی طور پر تیار کردہ اور ایل اے سی پر تعینات دیگر نگرانی کے آلات میں پین ٹِلٹ ہینڈ ہیلڈ تھرمل امیجر بھی شامل ہے۔ اس موقع پر موجود افسران نے بتایا کہ اسے ایل اے سی کے آگے کی جگہوں پر تعینات کیا گیا تھا تاکہ پی ایل اے کے اہلکاروں کی نقل و حرکت کو ٹریک کیا جا سکے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: