உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Future of mobility: ہندوستان میں حمل ونقل کا مستقبل، الیکٹریک گاڑیوں کی تیاری پر توجہ مرکوز

    Future of mobility: ہندوستان میں حمل ونقل کا مستقبل، الیکٹریک گاڑیوں کی تیاری پر توجہ مرکوز۔ تصویر کریڈٹ: Picture Courtesy: Shutterstock

    Future of mobility: ہندوستان میں حمل ونقل کا مستقبل، الیکٹریک گاڑیوں کی تیاری پر توجہ مرکوز۔ تصویر کریڈٹ: Picture Courtesy: Shutterstock

    چیتک، اسپیکٹرا، بولیٹ، یزڈی، لونا، راجدوت، یہ نام کئی دہائیوں سے ہندوستانی گھرانوں کا لازمی حصہ رہے ہیں۔ ہماچل پردیش کے پہاڑی علاقوں سے لے کر کیرالا کے سرسبز و شاداب علاقوں تک ، ہمہ مقاصد والی دو پہیا گاڑیاں ایک ہمہ گیر ثقافتی علامت رہی ہے۔

    • Share this:
      امیتابھ کانت

      چیتک، اسپیکٹرا، بولیٹ، یزڈی، لونا، راجدوت، یہ نام کئی دہائیوں سے ہندوستانی گھرانوں کا لازمی حصہ رہے ہیں۔ ہماچل پردیش کے پہاڑی علاقوں سے لے کر کیرالا کے سرسبز و شاداب علاقوں تک ، ہمہ مقاصد والی دو پہیا گاڑیاں ایک ہمہ گیر ثقافتی علامت رہی ہے۔ سفر کا ایک آسان اور تیز موڈ ، سماجی روابط کی سہولت -۔یہ 80 اور 90 کی دہائی تک ہندوستان کی بہترین خاندانی گاڑی رہی ہے۔ ہزار سال کے اختتام پر ، ایک دو پہیہ گاڑی آہستہ آہستہ لڑکیوں اور لڑکوں کی طرف سے انفرادی آزادی کے اظہار کے ایجنٹ میں تبدیل ہوگئی- ایک روشن ، سمجھدار اور ترقی پذیزملک کی تصویر۔ اولا (OLA)کے حالیہ اعلان کیاگیا ہے کہ تمل ناڈو کے ضلع کرشنا گیری میں دنیا کی سب سے بڑی ای سکوٹر مینوفیکچرنگ یونٹ کا افتتاح کیاجائیگا۔ کئی سالوں میں دو پہیوں کے بارے میں ہندوستان میں دلچسپی دیکھی جارہی ہے۔ ہندوستانی نقل و حرکت کے منظر پر دو پہیوں کا غلبہ رہا ہے جو گاڑیوں کی فروخت کا تقریباً80فیصد ہے۔ ایک ہی وقت میں ، ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا کارخانہ دار اور دو پہیوں کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔

      Picture Courtesy: Shutterstock
      Picture Courtesy: Shutterstock


      اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ، نقل و حمل اور نقل و حرکت کے ماحولیاتی نظام میں تبدیلی سب سے زیادہ واضح ہے۔ ہندوستان نقل و حرکت کے شعبے میں عالمی خلل پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ روایتی گیس سے چلنے والی موٹر گاڑیاں مشترکہ ، منسلک اور صفر اخراج برقی نقل و حرکت کا راستہ بنا رہی ہیں۔ FAME II کی حالیہ ری۔موڈلنگ نقل و حمل کے ایک سستی ، قابل رسائی اور منصفانہ مستقبل کے قیام کی طرف ایک تاریخی قدم ہے جس سے زندگی میں آسانی اور پیداوار کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔ نقل و حرکت کے شعبے میں پیش رفت کی مطابقت کو آئی آئی ٹی دہلی نے تسلیم کیا ہے جس نے برقی نقل و حرکت میں دو سالہ ایم ٹیک پروگرام شروع کیا۔ دو پہیئیاں اور تین پہیئیاں ہندوستان میں ابتدائی مرحلے میں برقی گاڑی اپنانے کے مشعل بردار بننے جا رہی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی برقی کاری پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔

      Picture Courtesy: Shutterstock
      Picture Courtesy: Shutterstock


      احمد آباد بی آر ٹی ایس پر، ہندوستان کے بہترین ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم میں سے ایک مسافر اب صفر ایمیشن الیکٹرک بسوں میں سوار ہو سکتا ہے جسے اکو لائف بسیں کہتے ہیں۔ حال ہی میں ، شہر نے جے بی ایم آٹو سے 50 نئی الیکٹرک بسیں حاصل کیں ہیں ۔ جن کے ساتھ ایک جدید ترین چارجنگ انفراسٹرکچر ہے تاکہ سبز ٹرانزٹ کو فعال بنایا جا سکے۔ احمد آباد سے صرف تین گھنٹے کی دوری پر ، ہندوستان کا پہلا الیکٹرک گاڑیوں کا شہر کیواڈیا میں بننے جارہاہے۔ گجرات کی طرح ، تقریبا 18 ریاستیں تبدیلی کی نقل و حرکت کو آگے بڑھانے کے لیے فرنٹ سیٹ پر ہیں اور ای موبلٹی ماحولیاتی نظام کی مزید مدد کے لیے ریاستی سطح کی ای وی پالیسیاں لے کر آئی ہیں۔

       

      سائیکل رکشے، آٹو رکشا، چھوٹی اور بڑی بسیں سبھی ہندوستان کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے ورسٹائل اور متحرک منظر نامے کی تشکیل کرتی ہیں۔ ان کی برقی کاری سے برقی نقل و حرکت کی طرف نیچے کی طرف سوئچ قابل ہو جائے گا ۔جس کے ساتھ عوام سفر کے ان پائیدار طریقوں کا انتخاب کریں گے۔ انرجی ایفیشنسی سروسز لمیٹڈ (ای ای ایس ایل) کو اپٹیک بڑھانے کے لیے ایک اہم ڈرائیور کے طور پر شناخت کی گئی ہے اور وہ متعدد صارفین کے حصوں کے لیے 3 لاکھ اعلی معیار کے الیکٹرک تھری وہیلرز خریدیں گے اور 9 شہروں میں 4 ملین پبلک ٹرانسپورٹ صارفین کو تک اپنی خدمات کو و سعت دیں گے۔

      ڈسکلیمر: مضمون نگار، نیتی آیوگ کے سی ای او ہیں۔ مضمون میں ان کے ذاتی خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: