ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تلنگانہ انکاونٹر : سپریم کورٹ نے کہا : معاملہ کی جانچ کیلئے مقرر کئے جاسکتے ہیں سابق جج

تلنگانہ میں ویٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے سبھی ملزمین کے انکاونٹر میں مارے جانے کی جانچ اب سپریم کورٹ کے سابق جج کریں گے ۔

  • Share this:
تلنگانہ انکاونٹر : سپریم کورٹ نے کہا : معاملہ کی جانچ کیلئے مقرر کئے جاسکتے ہیں سابق جج
انکاونٹر کی جگہ پر کھڑے پولیس اہلکار ۔ فوٹو : پی ٹی آئی / نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

تلنگانہ میں ویٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے سبھی ملزمین کے انکاونٹر میں مارے جانے کی جانچ اب سپریم کورٹ کے سابق جج کرسکتے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے بدھ کو اس معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں ۔ انکاونٹر کی جانچ کیلئے ابھی تک جج کا نام فائنل نہیں کیا گیا ہے ۔ عدالت اس معاملہ پر جمعرات کو سماعت کرے گی ۔


بتادیں کہ گزشتہ جمعہ کی صبح اجتماعی آبروریزی اور قتل کے سبھی چار ملزمین پولیس انکاونٹر میں مارے گئے تھے ، جس کے بعد سے تلنگانہ پولیس سوالات کی زد میں ہے ۔ سائبرآباد پولیس کے خلاف ایک شکایت درج کراتے ہوئے چاروں ملزمین کے انکاونٹر کو فرضی بتایا گیا ہے ، جس کے بعد وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو نے ایس آئی ٹی کی تشکیل کو منظوری دی تھی ۔ رچکونڈا کے پولیس کمشنر مہیش ایم بھاگوت کی سربراہی میں یہ ٹیم انکاونٹر سے وابستہ سبھی پہلووں کی جانچ کررہی ہے ۔



خیال رہے کہ اس انکاونٹر کو لے کر قومی انسانی حقوق کمیشن بھی سرگرم ہے ۔ این ایچ آر سی نے مبینہ انکاونٹر میں چاروں ملزمین کے مارے جانے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے جانچ کا حکم دیا تھا ۔ گزشتہ ہفتہ کو این ایچ آر سی کی ٹیم نے حیدرآباد پہنچ کر جانچ بھی کی تھی ۔ ساتھ ہی این ایچ آر سی کی ٹیم نے محبوب نگر کے سرکاری اسپتال کا بھی دورہ کیا ، جہاں چاروں ملزمین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے بعد رکھا گیا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ 27 نومبر کو حیدرآباد کی ایک ویٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی کے بعد اس کا قتل کردیا گیا تھا اور لاش کو پٹرول ڈال کر جلادیا گیا اور ایک نالے کے پاس پھینک دیا گیا تھا ۔ پولیس نے اس معاملہ میں چار ملزمین محمد عارف ، نوین ، شیوا اور چناکیشاوولو کو گرفتار کیا تھا ۔ عدالت نے انہیں 14 دنوں کی جوڈیشیل ریمانڈ میں بھیجا تھا ، لیکن جمعہ کو علی الصبح 5.45 بجے حیدرآباد سے تقریبا 50 کلو میٹر دو چٹن پلی میں ایک پولیس انکاونٹر میں یہ سبھی ملزمین مار گرائے گئے تھے ۔
First published: Dec 11, 2019 02:20 PM IST