تلنگانہ : اردو میڈیم اساتذہ کی خالی اسامیوں پرجلد ہوسکتی ہے بھرتی، آئندہ 2دنوں میں ہوگا اجلاس

تلنگانہ میں اردو اساتذہ کی خالی اسامیوں پربھرتیوں کے لیے آئندہ دودنوں میں میٹنگ منعقد کی جائیگی۔ تلنگانہ کی وزیرتعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے اسمبلی میں مجلس اتحادالمسلمین کے ارکان اسمبلی کوثر محی الدین اور محمد معظم خان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔

Sep 17, 2019 06:11 PM IST | Updated on: Sep 17, 2019 06:11 PM IST
تلنگانہ : اردو میڈیم اساتذہ کی خالی اسامیوں پرجلد ہوسکتی ہے بھرتی، آئندہ 2دنوں میں ہوگا اجلاس

تلنگانہ میں اردو اساتذہ کی خالی اسامیوں پربھرتیوں کے لیے آئندہ دودنوں میں میٹنگ منعقد کی جائیگی۔ تلنگانہ کی وزیرتعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے اسمبلی میں مجلس اتحادالمسلمین کے ارکان اسمبلی کوثر محی الدین اور محمد معظم خان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔تلنگانہ کی وزیر تعلیم سبیتا اندراریڈی نے کہا کہ2017میں 8729اساتذہ کی خالی اسامیوں کو تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ پُر کیاگیا اور حکومت نے اردو میڈیم کی 900خالی اسامیوں کو پُر کرنے کافیصلہ کیا جس میں سے صرف 336اسامیوں پر ہی امیدوار اہل قرار دیئے گئے۔2008ڈی ایس سی میں ایس سی، ایس ٹی اور بی سی زمرہ کے لئے محفوظ قرار دی گئی اردو میڈیم کی اسامیوں کو ڈی ریزرو(غیر محفوظ)کرنے کے لئے حکومت نے جی او72,74جاری کیا تاہم ان جی اوز کو اے پی اڈمسٹریٹیو ٹریبونل اور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا۔

سبیتا اندراریڈی نے مجلسی ارکان اسمبلی کی جانب سے پوچھے گئے اس مسئلہ پر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اردو میڈیم کی 560اسامیوں پر بھرتی کی گئی۔ ساتھ ہی ان اسامیوں کو ڈی ریزرو کرتے ہوئے عام زمرہ میں تبدیل کرنے کے اقدامات کئے گئے۔انہوں نے اس مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق اندرون دو دن اعلی عہدیداروں اور مجلسی ارکان اسمبلی کے ساتھ اجلاس طلب کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اردو میڈیم پرائمری اور ہائی اسکولس جن کی تعداد 1109ہے میں منظورہ اسامیوں کی تعداد 5964ہے۔ان میں 4418کو پُر کیا گیا۔ڈی ایس سی کے ذریعہ 900اسامیوں کے منجملہ 300پر بھرتی کی گئی۔ بقیہ اسامیوں کے تعلق سے جلد ہی فیصلہ کیاجائے گا۔

Loading...

تلنگانہ اسٹیٹ اُردوٹرینڈ ٹیچرس اسوسی ایشن کے نمائندے تلنگانہ حکومت کے مشیربرائے اقلیتی اموراے کے خان کویادداشت پیش کرتے ہوئے۔(تصویر:پریس ریلیز)۔ تلنگانہ اسٹیٹ اُردوٹرینڈ ٹیچرس اسوسی ایشن کے نمائندے تلنگانہ حکومت کے مشیربرائے اقلیتی اموراے کے خان کویادداشت پیش کرتے ہوئے۔(تصویر:پریس ریلیز)۔

یادررہے کہ تلنگانہ اسٹیٹ اُردوٹرینڈ ٹیچرس اسوسی ایشن کے نمائندوں نے کے سی آر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیچرس ریکروٹمنٹ ٹیسٹ2017میں اردو میڈیم کی خالی 558اسامیوں کو ڈی ریزرو کرتے ہوئے فی الفورتقررات عمل میں لائے جو کہ ایس سی، ایس ٹی و بی سی طبقات کے طلبہ کی عدم موجودگی کے سبب روسٹر سسٹم کی نذر ہوتے ہوئےاب بھی خالی ہیں ۔ اسوسی ایشن کے صدرمحمد معیزالدین، جنرل سکریٹری محمد قمر حسین و رکن محمد عابد علی و دیگر نے اس خصوص میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایاکہ ریاستی حکومت نے سال 2017کے دوران جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے ذریعہ اردومیڈیم کی جملہ 900اسامیوں کو خالی قراردیا تھا اوربعد امتحان ونتائج ان میں سے صرف342خالی پر تقررات عمل میں لائے گئے ہیں۔

تلنگانہ اسٹیٹ اُردوٹرینڈ ٹیچرس اسوسی ایشن کے نمائندے مجلس اتحادالمسلمین کے فلورلیڈراکبرالدین اویسی سے نمائندگی کرتے ہوئے۔(تصویر:پریس ریلیز)۔ تلنگانہ اسٹیٹ اُردوٹرینڈ ٹیچرس اسوسی ایشن کے نمائندے مجلس اتحادالمسلمین کے فلورلیڈراکبرالدین اویسی سے نمائندگی کرتے ہوئے۔(تصویر:پریس ریلیز)۔

وہیں مجلس اتحادالمسلمین کے رکن اسمبلی کوثر محی الدین انہوں نے سرکاری اسکولس میں بنیادی سہولیات کی کمی کے مسئلہ پر کہا کہ جلد ہی اس سلسلہ میں ایک منصوبہ تیار کیاجائے گااور مناسب درکار اقدامات کئے جائیں گے۔قبل ازیں اس مسئلہ کو مجلس کے ارکان اسمبلی کوثر محی الدین اور محمد معظم خان نے اٹھایا۔کوثر محی الدین نے وقفہ سوالات کے موقع پر اس مسئلہ پر کہا کہ ریاست کے بیشترمقامات پر اسکولس کرایہ کی عمارتوں میں چلائے جارہے ہیں

کوثر محی الدین نے کہاکہ حیدرآباد اور تلنگانہ کے اضلاع میں کئی مقامات پرسرکاری اراضیات موجود ہے،ان اراضیات پر سرکاری اسکولس کی عمارتیں تعمیر کرنے سے سالانہ کرایہ بھی بچ سکتا ہے۔انہوں نے اسکولس میں بنیادی سہولیات کی کمی پر بھی حکومت کی توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ اسکولس میں فرنیچر اور پینے کے پانی کی کمی بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ بیت الخلاوں کی تعمیر کی بھی ضرورت ہے۔

Loading...