ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تلنگانہ حکومت نے حسین ساگر پر 6 لین پل کی تعمیر کی دی منظوری، 25 کروڑ لاگت سے تیار ہوں گے یہ پل

  • Share this:
تلنگانہ حکومت نے حسین ساگر پر 6 لین پل کی تعمیر کی دی منظوری، 25 کروڑ لاگت سے تیار ہوں گے یہ پل
تلنگانہ حکومت نے حسین ساگر پر چھ لین پل کی تعمیر کی دی منظوری، 25 کروڑ لاگت سے تیار ہوں گے یہ پل

تلنگانہ حکومت (Telangana Government) نے ٹریفک کے مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کے لئے چھ لین پل (lane bridge) بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ پل میریٹ ہوٹل (Marriot Hotel) کے سامنے سے شروع کیا جائے گا۔ جو کہ 25 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت نے رانی گنج سے بدھ بھون تک حسین نگر گیٹ اور پلوں کی تنصیب کے لئے 46 کروڑ روپے کی اضافی رقم بھی مختص کی ہے۔


محکمہ میونسپل ایڈمنسٹریشن (Department of Municipal Administration) نے اپنے 2020-21 کے قلیل مدتی منصوبوں میں ایک ارب 858 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ جس کے تحت پلوں کے کام، نالوں کی توسیع اور آبی ذخائر اور جھیلوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ محکمہ میونسپل ایڈمنسٹریشن کے ذرائع کے مطابق حیدرآباد میں اس طرح کے کاموں کی وجہ سے واٹر ڈرین سسٹم کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ترقیاتی کاموں کو 25 پیکجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو جی ایچ ایم سی کے چھ زونوں میں آتے ہیں۔


واضح رہے کہ گذشتہ برس حیدرآباد کے مخلتف علاقہ جات میں شدید بارش کی وجہ سے آبی سربراہی کا نظام درہم برہم ہوگیا، اس ضمن میں بھی قریبی میونسپلٹیوں کا جائزہ لیا جائے گا جہاں پچھلے سال شدید بارش کی وجہ سے بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اطلاع کے مطابق حکومت نے بنڈلاگوڈا چیرو سے ناگول چیرو سرپلس چینل اور نالہ کی تعمیر کے لئے 30 کروڑ روپئے کی منظوری دے گی۔


اسی طرح سرور نگر نگر جھیل تا چیتن پور کاموں کے لئے 57.34 کروڑ روپئے کی منظوری دی گئی ہے۔ بلکہ پور نالہ کے لئے 12 کروڑ کی رقم کی منظوری دی گئی۔ افضل ساگر نالہ کے لئے علیحدہ منظوری دی گئی۔ اس وقت حسین ساگر کے پاس صرف بارڈیں ہیں اور 513.41 ایم ٹی ایس فل ٹینک لیول (ایف ٹی ایل) کی گنجائش تک پہنچنے کے بعد خود بخود ان بارڈیوں سے پانی بہ جاتا ہے۔
ان گیٹس کو ہوٹل میریٹ کے آخر میں 41.27 کروڑ کی لاگت سے تعمیر کرنے کی تجویز تھی۔ شہری باڈی کے انجینئروں نے دوسرے ماہرین کے ساتھ ایک تفصیلی اسڈدی کیا اور حکومت کو حسین ساگر کی تزئین کاری اور گیٹ میکانزم والے پل سے متعلق حکومت کو رپورٹ پیش کی۔

واٹر باڈی کے لئے موجودہ وینٹوں کو کئی دہائیاں قبل نصب کیا گیا تھا۔ عہدیدار نے بتایا کہ ہر بار جب اوپر والے حصے سے حسین ساگر میں بھاری آمد ہوتی ہے تو ہوٹل میریٹ کے اختتام پر وینٹوں کے ذریعہ پانی اوور بہہ جاتا ہے۔ اکتوبر 2020 کے علاوہ ستمبر 2016 میں بھی حسین ساگر میں بھاری مقدار میں پانی جمع ہوا، جس نے جی ایچ ایم سی حکام کو نئے کرسٹ گیٹس کی تعمیر کے منصوبوں کو تیز کرنے پر مجبور کردیا۔

اس سب کے علاوہ شہریوں کو شکایت ہے کہ حسین ساگر جھیل میں کوڑا کرکٹ ڈالا جاتا ہے اور یہاں کا پانی نہایت آلودہ اور بدبو دار ہوگیا ہے۔ ایسے میں شہریوں کا کہنا ہے کہ اس تاریخی جھیل کی صفائی کے ضمن میں خصوصی توجہ دیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل ریاستی حکومت نے حسین ساگر کے اطراف کے علاقہ کی تجدید کاری کی ہے۔ یہاں تفریح کے لیے بہترین انداز میں روشنی کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پیدل راہ گیروں کے لیے بھی راستہ چلنے کے لیے (pedestrian way) کا بھی معقول انتظام کیا گیا ہے۔ چند روز قبل ریاست کے انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر کے ٹی آر نے بیرون ملک کی عصری مشینوں کے ذریعہ جھیل کی صفائی کے کام کا آغاز کا بھی اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ حسین ساگر ایک مصنوعی جھیل ہے جسے سنہ 1563 میں قطب شاہی خاندان کے تیسرے سلطان ابراہیم قلی قطب شاہ نے تعمیر کروایا تھا تھا۔ اس کا نام مشہور بزرگ حضرت حسین شاہ ولی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ جنھوں نے اس جھیل کے ڈیزائن میں معاونت کی۔ ان کے اعزاز میں گنبدان قطب شاہی میں عبد اللہ قطب شاہ نے مزار بنوایا تھا جسے درگاہ حسین شاہ کہا جاتا ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 09, 2021 12:15 PM IST