اپنا ضلع منتخب کریں۔

    بی جے پی سے معطل رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کو تلنگانہ ہائی کورٹ سے راحت، مشروط رہائی کا دیا حکم

    ٹی راجہ سنگھ ٹوئٹر (فائل فوٹو)

    ٹی راجہ سنگھ ٹوئٹر (فائل فوٹو)

    راجہ سنگھ تلنگانہ کے گوشہ محل سیٹ سے ایم ایل اے ہے۔ وہ مخصوص طبقے کے خلاف کئی مرتبہ توہین آمیز اور نفرت انگیز ریمارک کرچکے ہیں۔ 2020 میں نفرت پھیلانے کے الزام میں راجہ سنگھ کو فیس بک اور انسٹاگرام نے بین بھی کردیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad, India
    • Share this:
      تلنگانہ ہائی کورٹ نے بدھ کو پیغمبر محمد ﷺ کے بارے میں مبینہ توہین آمیز تبصرے کو لے کر سخت قانون (پی ڈی ) ایکٹ کے تحت گرفتار کیے گئے بی جے پی کے معطل لیڈر ٹی راجہ سنگھ کی مشروط رہائی کا حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے دونوں فریقوں کی دلیلوں کے بعد ریلیوں او رپریس کانفرنس نہ کرنے کی شرطوں پر معطل بی جے پی لیڈر کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

      راجہ سنگھ کے وکیل کرونا ساگر نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’ہائی کورٹ نے راجہ سنگھ پر لگے پی ڈی ایکٹ کو برخاست کردیا اور کچھ شرطوں کے ساتھ انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ شرطوں کے مطابق، راجہ سنگھ ریلیاں نہیں کرسکتے، میڈیا سے بات نہیں کرسکتے اور مستقبل میں سوشل میڈیا پر کوئی توہین آمیز پوسٹ نہیں کریں گے، تو کم سے کم آج کی ریلی تو نہیں ہوگی۔ معطل بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ پر پی ڈی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا اور 25 اگست کو چیرلاپلی جیل بھیج دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، معطل بی جے پی لیڈر کے خلاف 101 مجرمانہ کیسیز درج کیے گئے تھے، جو 18 فرقہ ورانہ جرائم میں شامل ہے۔

      بی جے پی کی جانب سے وجہ بتاو نوٹس ملنے کے بعد راجہ سنگھ نے کہا تھا ’میں نے جان بوجھ کر کسی مذہب کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔ ٹی آر ایس حکومت نے جان بوجھ کر میرے خلاف جھوٹا کیس درج کروایا۔ یہاں تک کہ عدالت نے میرے خلاف کیس کو خارج کردیا۔ اس کے بعد بھی مجھے پی ڈی ایکٹ لاگو کر کے حراست میں لیا گیا۔‘

      انہوں نے کہا کہ میرے ویڈیو میں میں نے صرف منور فاروقی کی نقل کی، وہ بھی گوگل پر دی گئی جانکاری کی بنیاد پر۔ میں نے نہ تو کسی مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور نہ ہی کسی مذہب پر تنقید کی۔ راجہ سنگھ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ میں نے ضابطہ کی نوٹس میں ذکر کیے گئے بی جے پی کے آئین کے رول XXV,10 (اے) کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری جانب سے جاری وجہ بتاو نوٹس کے جواب پر غور کریں اور مجھے عوام، بی جے پی، قوم اور بھارت ماتا کی خدمات جاری رکھنے کا موقع دیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ہندوستان حوالگی کےخلاف اپیل پرنیرومودی کی ہار، کیااب نیرومودی کوہندوستان کےحوالےکیاجائےگا؟

      یہ بھی پڑھیں:
      اعظم خان کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، اسمبلی کی رکنیت کو لے کر کل ہوگا فیصلہ

      راجہ سنگھ تلنگانہ کے گوشہ محل سیٹ سے ایم ایل اے ہے۔ وہ مخصوص طبقے کے خلاف کئی مرتبہ توہین آمیز اور نفرت انگیز ریمارک کرچکے ہیں۔ 2020 میں نفرت پھیلانے کے الزام میں راجہ سنگھ کو فیس بک اور انسٹاگرام نے بین بھی کردیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: