உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hate Speech Cases: اکبر الدین اویسی کو بڑی راحت، عدالت نے دو معاملات میں کیا بری

    Hate Speech Cases: اکبر الدین اویسی کو بڑی راحت، عدالت نے دو معاملات میں کیا بری  (ANI)

    Hate Speech Cases: اکبر الدین اویسی کو بڑی راحت، عدالت نے دو معاملات میں کیا بری (ANI)

    Hate Speech Cases: عدالت نے کہا کہ استغاثہ اس کے لئے مناسب ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ۔ تاہم کورٹ نے اکبرالدین اویسی کو یہ ہدایت دی کہ وہ قومی سالمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں کوئی متنازع تقریر نہ کریں ۔

    • Share this:
      حیدرآباد : نامپلی میٹروپولیٹن کورٹ میں خصوصی سیشن کورٹ برائے ایم ایل اے اور ایم پی ( special sessions court for MP/MLAs at Nampally metropolitan courts)  نے بدھ کو کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اکبر الدین اویسی  (Akbaruddin Owaisi) کو نفرت انگیز تقریر کرنے کے دو مقدمات میں بری کردیا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ اس کے لئے مناسب ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ۔ تاہم کورٹ نے اکبرالدین اویسی کو یہ ہدایت دی کہ وہ قومی سالمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں کوئی متنازع تقریر نہ کریں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: اسکول کھلنے کے بعد چھوٹے بچوں کے بیمار پڑنے کے معاملات 15 فیصد تک بڑھے، Covid-19 نہیں، یہ ہے وجہ


      قابل ذکر ہے کہ عدالت نے استغاثہ اور ملزمان دونوں کے دلائل سننے کے بعد چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ دونوں مقدمات کا فیصلہ منگل کو سنایا جائے گا ۔ مگر منگل کو خصوصی عدالت نے دونوں مقدمات کا فیصلہ بدھ تک کیلئے ملتوی کر دیا تھا اور اب یہ فیصلہ سنایا گیا ہے ۔


      یہ بھی پڑھئے: تھمتا نظر نہیں آرہا جے این یو تنازع، مظاہرین طلبہ سے ملاقات کریں گی وائس چانسلر


      بتادیں اکبرالدین پر 2012 میں سابق عادل آباد اور نظام آباد ضلع کے نرمل میں ’اشتعال انگیز تقریریں‘ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا ۔ تقریر کے دوران ان پر مبینہ طور پر دو گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا ۔

      نظام آباد نفرت انگیز تقریر کیس میں جب مقدمہ چلایا گیا تو کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ نے 41 گواہوں سے جرح کی تھی۔ اسی طرح نرمل پولس کے ذریعہ درج کیس میں 33 گواہوں سے جرح کی گئی۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: