உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Firing on Owaisi: بکروں کی قربانی دینے والے کاروباری کی بڑھیں مشکلات، کیس درج

    اسد الدین اویسی ۔ فائل فوٹو ۔

    اسد الدین اویسی ۔ فائل فوٹو ۔

    اتر پردیش (Uttar Pradesh) کے میرٹھ میں فائرنگ کے واقعہ کا شکار ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کی سلامتی کیلئے حیدرآباد کے ایک تاجر نے 101 بکروں کی قربانی دی تھی ۔ اب اس معاملہ میں کاروباری کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔

    • Share this:
      حیدرآباد: اتر پردیش (Uttar Pradesh) کے میرٹھ میں فائرنگ کے واقعہ کا شکار ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کی سلامتی کیلئے حیدرآباد کے ایک تاجر نے 101 بکروں کی قربانی دی تھی ۔ اب اس معاملہ میں کاروباری کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اس کاروباری کے خلاف PETA نے اس سلسلہ میں پولیس میں معاملہ درج کروایا ہے ۔

      دراصل یوپی میں اسمبلی انتخابات کے دوران اسد الدین اویسی میرٹھ سے دہلی لوٹ رہے تھے تو اس دوران کچھ حملہ آوروں نے ان پر گولیاں چلا دی تھیں ۔ تاہم اویسی اس حملہ میں بال بچ گئے تھے ۔ پولیس نے اس معاملے میں کئی ملزمین کو گرفتار بھی کیا ہے ۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ان ملزموں نے بتایا کہ وہ اویسی اور ان کے بھائی کے بیانات سے ناراض تھے ، اس لئے انہوں نے اس واقعہ کو انجام دیا۔

      فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد جہاں اسد الدین اویسی کی درازئی عمر کیلئے دعا کی گئی تھی ، وہیں حیدرآباد کے ایک کاروباری نے ان کی بہتر صحت اور لمبی عمر کیلئے مبینہ طور پر 101 بکروں کی قربانی دی تھی ۔ اسی کے خلاف PETA نے یہ کیس درج کروایا ہے ۔ تلنگانہ جانوروں اور پرندوں کی قربانی پر پابندی ایکٹ، 1950 ، اور پریونشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ( پی سی اے) ایکٹ، 1960۔ کے تحت یہ کیس درج کیا گیا گیا ہے ۔


      PETA انڈیا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ تلنگانہ جانوروں اور پرندوں کی قربانیوں کی ممانعت ایکٹ 1950 کی دفعہ 5 ( بی ) کہتی ہے کہ کوئی بھی شخص جان بوجھ کر کسی بھی ایسی جگہ پر قربانی کی اجازت نہیں دے گا جو اس کے قبضے میں ہو یا اس کے کنٹرول میں ہو۔ . سیکشن 4  بھی کسی کو بھی کسی جانور کی قربانی دینے، انجام دینے یا اس میں حصہ لینے سے منع کرتا ہے اور سیکشن 8 ایکٹ کے تحت تمام جرائم کو قابلِ سزا قرار دیتا ہے۔

      اسد الدین اویسی پر حملے کے معاملہ میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہاپوڑ نے کہا تھا کہ مرکزی ملزم سچن پنڈت نے فائرنگ کی تھی اور اس کے پاس سے ایک 9 ایم ایم کی پستول برآمد کی گئی ہے ۔ سچن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میں بڑا سیاستدان بننا چاہتا ہوں ، میں خود کو سچا محب وطن مانتا ہوں ، مجھے لگا کہ اویسی کا بیان ملک کے لئے خطرہ ہے ، میرے ذہن میں اویسی کے تئیں دشمنی پیدا ہو گئی تھی ، اس کے بعد میں نے انتخابی مہم کے دوران ہی اویسی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: