உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Akbaruddin Owaisi: اکبرالدین اویسی کی ’متنازعہ‘ تقریر، مقدمہ کا آج ہوسکتا ہے فیصلہ

    Youtube Video

    مذکورہ رپورٹ کے مطابق اکبرالدین دوپہر میں نامپلی کورٹ پہنچے اور جج کے سامنے پیش ہوئے۔ دونوں مقدمات کی سماعت کے فوراً بعد جج نے فیصلہ موخر کر دیا۔ اکبرالدین پر 2012 میں سابق عادل آباد اور نظام آباد ضلع کے نرمل میں ’اشتعال انگیز تقریریں‘ کرنے کا الزام ہے۔

    • Share this:
      دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق کل ہند مجلس اتحاد المسلیمین (AIMIM) کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی (Akbaruddin Owaisi) کی طرف سے ’مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریر‘ کے 2012 کے مقدمات میں بہت متوقع فیصلہ جلد ہی ہوسکتا ہے۔ جو منگل کے روز ہی ہونا تھا۔ اسے خصوصی سیشن کورٹ برائے ایم ایل اے اور ایم پی کورٹ نے بدھ تک کے لیے موخر کر دیا تھا۔

      مذکورہ رپورٹ کے مطابق اکبرالدین دوپہر میں نامپلی کورٹ پہنچے اور جج کے سامنے پیش ہوئے۔ دونوں مقدمات کی سماعت کے فوراً بعد جج نے فیصلہ موخر کر دیا۔ اکبرالدین پر 2012 میں سابق عادل آباد اور نظام آباد ضلع کے نرمل میں ’اشتعال انگیز تقریریں‘ کرنے کا الزام ہے جس میں انھوں نے مبینہ طور پر دو گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دیا تھا۔ جج نے استغاثہ اور ملزمان دونوں کے دلائل سننے کے بعد چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ دونوں مقدمات کا فیصلہ منگل کو سنایا جائے گا۔

      مزید پڑھیں: EXPLAINED: پاکستان میں سیاسی ہلچل کا باقی دنیا کے لیے کیا ہےمطلب؟ کیاعالمی سیاست ہوگی متاثر؟

      نظام آباد نفرت انگیز تقریر کیس میں جب مقدمہ چلایا گیا تو کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ نے 41 گواہوں سے جرح کی تھی۔ اسی طرح نرمل پولس کے ذریعہ درج کیس میں 33 گواہوں سے جرح کی گئی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: