ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

حکومت نے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کی پیش کی تجویز، 22 جنوری کو جواب دیں گے کسان

Farm Laws: کسانوں نے بتایا کہ حکومت نے کہا ہے کہ ہم عدالت میں حلف نامہ دے کر قانون کو 2-1.5 سال تک ہولڈ پر رکھ سکتے ہیں۔ کسان لیڈروں نے کہا کہ ہم 500 کسان تنظیم ہیں، کل ہم سب سے تبادلہ خیال کرکے 22 جنوری کو اپنا جواب دیں گے۔

  • Share this:
حکومت نے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کی پیش کی تجویز، 22 جنوری کو جواب دیں گے کسان
حکومت نے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کی پیش کی تجویز، 22 جنوری کو جواب دیں گے کسان

نئی دہلی: مودی حکومت نے آج کسانوں کی تنظیموں کو زرعی اصلاحات کے قوانین کو ایک مقررہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی اور ایک کمیٹی کے ذریعہ مسائل کو حل کرنے پر زور دیا۔ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین زرعی اصلاحات کے قوانین کو منسوخ کرنے اور کم از کم سہارا قیمت کو قانونی حیثیت دینے کے مطالبے کے لئے بدھ کے روز یہاں منعقدہ ایک میٹنگ میں ان قوانین کو ایک مقررہ مدت تک ملتوی کرنے اور اس کے دوران کمیٹی کے ذریعے مسائل حل کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس میٹنگ میں وزیر خوراک و رسد پیوش گوئل بھی موجود تھے جو تقریبا ساڑھے پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔


کسان رہنماؤں کے مطابق، نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ اگر دونوں فریقوں کے درمیان زرعی اصلاحات کے قوانین کے مقررہ وقت تک ملتوی رکھنے پر رضامندی ہوتی ہے، تو حکومت اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرسکتی ہے۔ دسویں دور کی میٹنگ کے بعد کسان رہنماؤں نے کہا کہ وہ زرعی اصلاحات کے قوانین کو منسوخ کرنے پر قائم ہیں۔ حکومت اور کسان تنظیموں کے مابین اگلی میٹنگ 22 جنوری کو ہوگی۔




 کسان رہنماؤں کے مطابق، نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ اگر دونوں فریقوں کے درمیان زرعی اصلاحات کے قوانین کے مقررہ وقت تک ملتوی رکھنے پر رضامندی ہوتی ہے، تو حکومت اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرسکتی ہے۔

کسان رہنماؤں کے مطابق، نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ اگر دونوں فریقوں کے درمیان زرعی اصلاحات کے قوانین کے مقررہ وقت تک ملتوی رکھنے پر رضامندی ہوتی ہے، تو حکومت اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرسکتی ہے۔


کسانوں نے کی فرضی معاملوں کو واپس لینے کا مطالبہ

آل انڈیا کسان سبھا کے جنرل سکریٹری حنان ملا نے کہا کہ حکومت نے کہا ہے کہ ایم ایس پی پر کمیٹی کی تشکیل کی جائے گی اور قوانین کو کمیٹی کے مشورے کی بنیاد پر نافذ کیا جائے گا۔ حنان ملا نے کہا کہ ہم نے حکومت سے کسانوں کے خلاف این آئی اے کے ذریعہ درج کئے گئے فرضی معاملوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جواب میں حکومت نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور ہم نے جن کے خلاف نئے معاملے درج کئے جانے ہوں (اگر ہوں)، ایسے لیڈروں کے نام طلب کئے ہیں۔

22 جنوری کو نکل سکتا ہے حل

میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ میٹںگ کے دوران ہم نے کہا کہ حکومت زرعی قوانین پر ایک سے ڈیڑھ سال تک کے لئے روک لگانے کے لئے تیار ہے۔ میں خوش ہوں کہ کسان تنظیموں نے اسے سنجیدگی سے لیا اور کہا کہ وہ اس بارے میں کل بات چیت کریں گے اور 22 جنوری کو اپنا فیصلہ بتائیں گے۔ نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ بات چیت صحیح سمت میں جا رہی ہے اور ایسا امکان ہے کہ 22 جنوری کو کوئی حل نکل آئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 20, 2021 09:00 PM IST