نیوزی لینڈ اورسری لنکا میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد عبادت گاہوں کی سیکورٹی پرسوال،عبادت گاہوں پرحملوں میں تشویشناک اضافہ

سال2000 سے2017 تک دنیا بھرمیں مقدس ومذہبی مقدمات پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا جائزہ

Apr 25, 2019 10:20 AM IST | Updated on: Apr 25, 2019 10:35 AM IST
نیوزی لینڈ اورسری لنکا میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد عبادت گاہوں کی سیکورٹی پرسوال،عبادت گاہوں پرحملوں میں تشویشناک اضافہ

نئی دہلی:21 اپریل اتوارکوآٹھ سلسلہ وارخودکش دھماکوں نے سری لنکا کو ہلادیا۔ یہ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں سب سے بڑا دہشت گردانہ حملہ تھا۔ بدھ شام تک ملی اطلاعات کے مطابق، دھماکوں میں کم از کم 359 افرادہلاک اور500 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ان حملوں تین کوگرجاگھروں پرنشانہ بنایاگیا۔جہاں لوگ ایسٹرکے دعائیہ اجتماعات کے لیے جمع ہوئے تھے۔

سری لنکامیں گرجا گھروں پرحملہ سے ایک مہینہ پہلے ایک مسلح دہشت گرد نے نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پرحملہ کیاتھا۔جس کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے. یہ حملے جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ دنیا بھرمیں مقدس مقامات یا مذہبی مقامات پرہوئے دہشت گردانہ حملوں میں عام اضافہ کااشارہ دیتے ہیں۔

میری لینڈ یونیورسٹی کے گلوبل ٹیررزم ڈیٹا بیس (GTD) کے مطابق، عالمی سطح پر 1970 سے دہشت گردی کے واقعات پرایک اوپن سورس ڈیٹا بیس بنایاگیاہے۔ جس کے مطابق سال 2000 سے 2017 تک دنیا بھرمیں مقدس ومذہبی مقدمات پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا جائزہ لیاجائے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ 24 دہشت گردانہ حملوں میں صرف جنوبی ایشیاء کے مختلف مقامات پرمقدس ومذہبی مقدمات کو نشانہ بنایاگیاہے۔ہم آپ کو بتادیں کہ مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں پر دنیابھرمیں جملہ 1،909 دہشت گردانہ حملوں میں، 458 واقعات جنوبی ایشیائی خطے میں کیے گئے ہیں۔جن میں افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، ہندوستان، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں.

Loading...

2012 کے بعد سے ان حملوں میں نمایاں اضافہ ہواہے۔ جنوبی ایشیامیں 458 ریکارڈ واقعات میں سے، 2012-2017 کے دوران کم ازکم 291 یا تقریباً 64 فیصد واقعات درجہ ہوئے ہیں، جس میں کم از کم 1،013 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہاں تک کہ عالمی سطح پران واقعات کی تعداد 2011 میں دوگنی ہوگئی تھی۔ 2012 میں کے بعد ان حملوں میں مسلسل اضافہ ہوتارہاہے۔جانکاری کے مطابق دنیا بھرمیں جملہ 1،909 دہشت گردانہ حملوں میں سے 1،244 حملوں میں مقدس یامذہبی مقامات کو نشانہ بنایاگیاتھا۔ اور ان حملوں میں 8،453 لوگوں موت ہوئی تھی۔مجموعی طورپر، مقدس مقامات، مساجد اور دیگرعبادت گاہوں سب سے زیادہ حملہ ہوئے ہیں۔ سال 1970سے 2017 کے درمیان دنیابھر میں 2،716 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں۔ جن میں 1،000زیادہ حملوں میں گریجا گھروں دیگر عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیاتھا۔

گلوبل ٹیررزم ڈیٹا بیس کے پروگرام منیجرایرین ملر کاخیال ہے کہ ڈیٹا بیس میں موجود اعدادو شمار سے یہ بات ظاہرہورہی ہے کہ مقدس مقامات اورعبادت گاہوں پردہشت گرد حملوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔تاہم، نیوز18 کے ایک ای میل پرجواب دیتے ہوئے ایرین ملرنے کہا کہ حملوں میں اضافہ سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ آئی ایس آئی ایس یعنی داعش اور اس سے جڑی تنظیموں کا دائرہ بڑھارہاہے اور مسلمانوں کے خلاف شیرانگیزی کے واقعات کے ردعمل کے طورپر ان حملوں میں اضافہ ہوسکتاہے۔ایرین ملرکی جانب سے موصول جواب کا کچھ حصہ حسب ذہل میں درجہ کیاگیاہے۔

“While this improvement likely had some impact on the completeness of the data, I think the increase reflects the growth and expansion of the Islamic State of Iraq into a network of affiliated organisations present in certain regions of the world. It also reflects, to some extent, growing anti-Muslim sentiment.”.

ہندوستان : مذہبی مقامات پردہشت گردانہ حملوں پرایک نظر

پاکستان اورافغانستان کے بعد جنوبی ایشیاء میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرملک ہندوستان ہے۔ سال 2000 میں ہندوستان میں مقدس مقامات اورعبادت گاہوں پر63 حملے ہوئےہیں۔ جن میں 98 افراد کی موت ہوئی ہے۔ جبکہ سال 2012 میں 33 مقامات پرمقدس مقامات اورعبادت گاہوں کو نشانہ بنایاگیاہے۔جن میں صرف 2 اموات درج کی گئی ہے۔

ہندوستان میں کسی بھی عبادت گاہ پرسب سے بڑا حملہ سال 2006 میں مالیگاؤں کی نورانی مسجد پرکیاگیاتھا۔اس حملہ میں 40 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔اسی طرح سال 2002ء میں 24 ستمبرکو اکشردھام مندرپرحملہ کیاگیاتھا۔اور مسلسل 14 گھنٹوں تک سکیورٹی فورسس اوردو مسلح دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواتھا۔اس واقعہ میں 33 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی طرح سال 2005 ء میں 18 مئی کو حیدرآبادکی تاریخی مکہ مسجد پردہشت گرادنہ حملہ کیاگیاتھا۔ اس حملہ میں 13لوگوں موت ہوئی تھی ۔جبکہ سال 2006 کے دوران مارچ میں بنارس کی ایک مندرپر دہشت گردانہ حملہ کیاگیاتھا۔ جن میں 20 افراد کی موت ہوگئی تھی۔

Loading...