ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہشت گردی کے الزامات سے بری حبیب میاں چار سال بعد اپنے گھر تری پورہ پہنچے ، دیا یہ بڑا بیان

بنگلورو پولیس نے ملزم پر تعزیرات ہند کی دفعات 120-B, 121,121-A,122,123,307,302، آرمس ایکٹ کی دفعات25,27، دھماکہ خیز مادہ قانون کی دفعہ 6 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعات 10,13,16,17,18,20کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اور اس پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا ، جس سے بنگلور کی سیشن عدالت نے 14 جون کو اسے بری کردیا ۔

  • Share this:
دہشت گردی کے الزامات سے بری حبیب میاں چار سال بعد اپنے گھر تری پورہ پہنچے ، دیا یہ بڑا بیان
دہشت گردی کے الزامات سے بری حبیب میاں چار سال بعد اپنے گھر تری پورہ پہنچے ، دیا یہ بڑا بیان

نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کئے گئے تریپورہ کے حبیب میاں کی کل جیل سے رہائی عمل میں آئی ، جس کے بعد اسے بنگلور سے بذریعہ ہوائی جہاز تریپورہ بھیج دیاگیا ۔ تریپورہ پہنچنے کے بعد حبیب میاں نے بذریعہ فون گلزار اعظمی (سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء مہاراشٹر ارشد مدنی) سے گفتگو کی اور اس کا مقدمہ لڑنے کے ساتھ ساتھ اسے صحیح سلامت اس کے گھر پہنچانے تک مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اس ضمن میں گلزار اعظمی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جیل سے رہائی کے بعد بھی ملزم کا تریپورہ پہنچنا مشکل ہورہا تھا ، کیونکہ اس کے پاس کسی بھی طرح کا شناختی کارڈ نہ ہونے کہ وجہ سے بنگلور ائیر پورٹ پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ، جسے ائیر پورٹ اتھارٹی سے گفتگو کرکے حل کیا گیا ، جس کے بعد حبیب میاں کو ہوائی جہاز میں بغیر کسی شناختی کارڈ کے سفر کرنے کی اجازت ملی۔


جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے  رہائی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں سے متعلق میڈیا کادہرارویہ تشویشناک ہے، گرفتاریوں کا خوب شورمچایاجاتاہے، لیکن عدالت سے رہائی ہوتے ہی ان کو سانپ سونگھ جاتاہے ۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ جب تک خاطی پولس افسران کو سزانہیں دی جاتی ، تب تک انصاف ادھوراہے ۔ لیکن جب ہم سزادینے کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہم سے کہا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے پولس اور سیکورٹی ایجنسیوں کا مورل کمزور ہوگا ۔ جب کہ سچائی یہ ہے کہ جس طرح بے گناہوں کو دہشت گردی کے جرم میں پھنسایا گیا ہے، یا اب بھی پھنسایا جارہا ہے ، اس پوری قوم کامورل گررہا ہے ۔


جیل سے رہائی کے بعد حبیب میاں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بنگلور آئے نہیں اور نہ ہی انہیں بنگلور شوٹنگ مقدمہ کے تعلق سے کوئی جانکاری ہے ۔ پولیس جب انہیں تریپورہ سے گرفتار کرکے بنگلور لائی ، اس وقت وہ پہلی بار بنگلور شہر آئے تھے اور وہ اس مقدمہ میں ماخوذ کسی بھی ملزم سے نا تو کبھی ملے تھے اور نہ ہی وہ کسی کو جانتے تھے ۔ پیشہ سے رکشا ڈرائیور باریش حبیب میاں نے بتایا کہ ان کی گرفتاری کا صدمہ ان کے والد برداشت نہیں کرسکے اور ان کا انتقال ہوگیا ، جبکہ گذشتہ چار سال قید کے دوران ان کا جو ذاتی نقصان ہوا وہ اسے بیان نہیں کرسکتے ۔مجھے اور میرے اہل خانہ کو جو جسمانی اور ذہنی اذیتیں ملی ہیں ، میں اسے لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ۔


لیکن اس د وران مجھے جمعیۃ علما کی قانونی امداد ملی ، جس کی وجہ سے آج میں مقدمہ سے بری ہوگیا اور میرے اوپر لگا دہشت گردی کا داغ بھی دھل گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ شکر گزار ہیں جمعیۃعلماء کے جن کی کوششوں سے انہیں مقدمہ بری کیا گیا ورنہ پتہ نہیں کب ٹرائل شروع ہوتا اور کب اس کا اختتام ہوتا اور انہیں اسی طرح جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی اور ان کے اہل خانہ بھی پریشان رہتے ۔

واضح رہے کہ بنگلورو پولیس نے ملزم پر تعزیرات ہند کی دفعات 120-B, 121,121-A,122,123,307,302، آرمس ایکٹ کی دفعات25,27، دھماکہ خیز مادہ قانون کی دفعہ 6 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی  دفعات 10,13,16,17,18,20کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اور اس پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا ، جس سے بنگلور کی سیشن عدالت نے 14 جون کو اسے بری کردیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 18, 2021 09:14 PM IST