ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عبادت گاہوں پر پابندی سے اب ٹوٹ رہا ہے مذہبی رہنماؤں کا صبر، کیا جا رہا ہے یہ مطالبہ

پورے ملک میں کورونا وائرس کے بعد نافذ لاک ڈاون کے بعد ان لاک ون کی شروعات کے ساتھ ہی اُترپردیش میں بھی بازار شاپنگ مال اور ہوٹلوں سے لےکر شراب کی دوکانوں تک کو کھولنے کی اجازت مل گئی، لیکن عبادت گاہوں میں پانچ افراد سے زیادہ کے داخل ہونے پر ابھی بھی پابندی ہے اور اب اس پابندی کے خلاف مختلف مذہبی رہنما ایک آواز ہوکر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔

  • Share this:
عبادت گاہوں پر پابندی سے اب ٹوٹ رہا ہے مذہبی رہنماؤں کا صبر، کیا جا رہا ہے یہ مطالبہ
عبادت گاہوں پر پابندی سے اب ٹوٹ رہا ہے مذہبی رہنماؤں کا صبر

میرٹھ: پورے ملک میں کورونا وائرس کے بعد نافذ لاک ڈاون کے بعد ان لاک ون کی شروعات کے ساتھ ہی اُترپردیش میں بھی بازار شاپنگ مال اور ہوٹلوں سے لےکر شراب کی دوکانوں تک کو کھولنے کی اجازت مل گئی، لیکن عبادت گاہوں میں پانچ افراد سے زیادہ کے داخل ہونے پر ابھی بھی پابندی ہے اور اب اس پابندی کے خلاف مختلف مذہبی رہنما ایک آواز ہوکر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں اور تہواروں کے موقع پر رعایت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


پورے ملک میں کورونا وائرس کے بعد نافذ لاک ڈاون کے بعد ان لاک ون کی شروعات کے ساتھ ہی اُترپردیش میں بھی بازار شاپنگ مال اور ہوٹلوں سے لےکر شراب کی دوکانوں تک کو کھولنے کی اجازت مل گئی، لیکن عبادت گاہوں میں پانچ افراد سے زیادہ کے داخل ہونے پر ابھی بھی پابندی ہے اور اب اس پابندی کے خلاف مختلف مذہبی رہنما ایک آواز ہوکر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔


پورے ملک میں کورونا وائرس کے بعد نافذ لاک ڈاون کے بعد ان لاک ون کی شروعات کے ساتھ ہی اُترپردیش میں بھی بازار شاپنگ مال اور ہوٹلوں سے لےکر شراب کی دوکانوں تک کو کھولنے کی اجازت مل گئی، لیکن عبادت گاہوں میں پانچ افراد سے زیادہ کے داخل ہونے پر ابھی بھی پابندی ہے اور اب اس پابندی کے خلاف مختلف مذہبی رہنما ایک آواز ہوکر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔
پورے ملک میں کورونا وائرس کے بعد نافذ لاک ڈاون کے بعد ان لاک ون کی شروعات کے ساتھ ہی اُترپردیش میں بھی بازار شاپنگ مال اور ہوٹلوں سے لےکر شراب کی دوکانوں تک کو کھولنے کی اجازت مل گئی، لیکن عبادت گاہوں میں پانچ افراد سے زیادہ کے داخل ہونے پر ابھی بھی پابندی ہے اور اب اس پابندی کے خلاف مختلف مذہبی رہنما ایک آواز ہوکر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔


ملک میں کورونا وبا کے خطرے کے سبب مارچ کے پہلے لاک ڈاؤن کی شروعات کے ساتھ ہی عبادت گاہوں کو بھی بندکردیا گیا تھا، لیکن اَن لاک ون کی شروعات کے بعد عبادت گاہوں میں عبادت کے لئے ایک وقت میں پانچ افراد کو ہی داخل ہونےکی اجازت دی گئی تھی، جبکہ کنٹینمنٹ زون والے علاقوں میں مکمّل پابندی تھی۔ وہیں شراب کی دوکانیں، بازار اور شادی تقریب کی اجازت دیئےجانے کے باوجود عبادت گاہوں پر ابھی بھی نافذ پابندی کے فیصلے سے اب مذہبی رہنماؤں کا صبر جواب دینے لگا ہے اور وہ حکومت کے اس دوہرے رویہ پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اجازت دیئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ساون کے اس مہینے میں شیو راتری اور عید الاضحٰی جیسے مقدس تیوہاروں کے موقع پر بھی حکومت نے عبادت گاہوں میں عبادت کی رعایت نہیں دی ہے، اس ماہ شیو مندروں میں جل چڑھانے کی خاص اہمیت سمجھی جاتی ہے، لیکن مندر میں داخلے کی پابندی کے سبب میرٹھ کے قدیم تاریخی بیلیشور مہا دیو مندر میں تو مندر انتظامیہ نے مندرکے دروازے پر ہی جل کلش لگاکرجل چڑھانے کا انتظام کیا ہے۔ مذہبی مقامات پر اجتماعی عبادت اور تقریبات پر پابندی کو لے کرحکومت کی اپنی دلیلیں ہیں، لیکن بازار شاپنگ مال اور شراب کی دوکانوں کو دی جا رہی رعایت کے سوال پرحکومت خاموش نظر آتی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 18, 2020 04:35 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading