உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جنگ آزادی میں مسلمانوں کی عظیم قربانیوں سے متعلق مجلس اتحاد المسلمین کی مہم

    مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی۔ فائل فوٹو

    مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی۔ فائل فوٹو

    مجلس اتحادالمسلمین دہلی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی عظیم قربانیوں سے متعلق بیداری مہم چلانے جارہی ہے، یہ مہم 10 سے 15 اگست تک چلائی جائے گی اور مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو عام لوگوں تک پہنچانے کا کام کیا جائے گا۔

    • Share this:
    نئی دہلی: مجلس اتحادالمسلمین دہلی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی عظیم قربانیوں سے متعلق بیداری مہم چلانے جارہی ہے، یہ مہم 10 سے 15 اگست تک چلائی جائے گی اور مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو عام لوگوں تک پہنچانے کا کام کیا جائے گا، آج اس پوری مہم کا اعلان دہلی مجلس کے صدر کلیم الحفیظ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔

    کلیم الحفیظ نے کہا کہ پارٹی کا ہرکارکن اس ایک ہفتہ کے دوران سوشل میڈیا پر مجاہدین آزادی کی تصاویر پوسٹ کرے گا اوران کی قربانیوں سمیت ان کے بارے میں معلومات اور جانکاری لکھے گا اور اس دوران مسلم مجاہدین آزادی کو لے کر بہت سے پروگرام منعقد کئے جائیں گے، جن کے ذریعہ سے لوگوں کو آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کے کردار کے بارے میں بتایا جائے گا۔ یہ مہم دس اگست سے پندرہ اگست کے درمیان چلائی جائے گی۔

    دہلی مجلس صدر کلیم الحفیظ نے کہا کہ ہم اس مہم کو اس لئے چلارہے ہیں کیونکہ بہت سے ناسمجھ لوگ مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں جبکہ مسلمانوں نے آزادی کی لڑائی میں دوسروں سے زیادہ قربانیاں پیش کی ہیں۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ تاریخ میں مسلمانوں کو وہ جگہ نہیں ملی، جو ملنی چاہئے تھی جبکہ حکومتوں اور سیاست نے مسلمانوں کی قربانیوں کو سامنے لانے میں ناانصافی کی ہے۔ پہلی جنگ آزادی غدر میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو انگریزوں نے شہید کردیا تھا۔ کانپور سے لے کر فرخ آباد تک کوئی پیڑ ایسا نہیں تھا، جس پر کسی مسلمان کی لاش نہ ٹنگی ہو، اسی طرح دہلی کے چاندنی چوک سے لے کر لاہور تک کوئی درخت ایسا نہیں تھا، جس پر علماء کو پھانسی دے کران کے جسم کو نہ لٹکایا گیا ہو۔

    دہلی مجلس صدر کلیم الحفیظ نے کہا کہ ہم اس مہم کو اس لئے چلارہے ہیں کیونکہ بہت سے ناسمجھ لوگ مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں
    دہلی مجلس صدر کلیم الحفیظ نے کہا کہ ہم اس مہم کو اس لئے چلارہے ہیں کیونکہ بہت سے ناسمجھ لوگ مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں


    صدر دہلی پردیش کلیم الحفیظ نے کہا کہ آج وہ لوگ ترنگا کی آڑ میں خود کو محب وطن ثابت کرنا چاہتے ہیں، جو مجاہدین آزادی کی مخالفت کر رہے تھے اور انگریزوں کے آلہ کاربن کر کام کر رہے تھے اور معافی مانگ رہے تھے۔  انہوں نے کہا کہ 1757سے لے کر1857 تک نواب سراج الدولہ اورٹیپو سلطان کی قربانیاں کیا بھلانے کے لائق ہیں یا پھر مولوی احمداللہ شاہ کی قربانی جن کو انگریزوں نے دو حصوں میں دفن کیا تھا۔ 1857 سے لے کر 1947 تک لاکھوں مسلمان شہید ہوئے۔ خود بہادر شاہ ظفرکو بیٹوں کے سر کاٹ کر پیش کئے گئے اور انگریزوں نے جن لوگوں کو کالا پانی جیل بھیجا، ان میں 75فیصد قیدی مسلمان تھے جبکہ اس کے بعد آزادی کی جو تحریکیں چلائی گئیں، ان میں ریشمی رومال تحریک کے بانی مولانا محمود الحسن اسی دیو بند مدرسے سے تھے، جس پر آج سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    کانگریس کا احتجاج کہیں رام جنم بھومی کی مخالفت تو نہیں؟ وزیر داخلہ امت شاہ نے اٹھائے سوال 

    ہندوستان غدر پارٹی جس نے کابل جاکر ہندستانی حکومت بنائی، جس کے صدر راجہ مہندر پرتاپ بنائے گئے جبکہ وزیراعظم مولوی برکت اللہ بنائے گئے تھے۔ انھوں نے انگریزوں سے مسلح لڑائی لڑی تھی۔ آزاد ہند فوج میں سبھاش چندر بوس کے ساتھ کیپٹن عباس علی کاندھے سے کاندھا ملائے ہوئے تھے، اسی کڑی میں کانگریس میں مولانا آزاد، بدرالدین طیب، محمد علی جوہر، مختار احمد انصاری، حکیم اجمل خان، رحمت اللہ سایانی وغیرہ کانگریس کے صدر رہے ہیں۔

    دہلی مجلس صدر کلیم الحفیظ نے کہا آزادی کے بعد بھی مسلمانوں کی بڑی خدمات ہیں مولانا آزاد نے، یوجی سی، اسرو، ایمس، آئی آئی ایم، آئی آئی ٹی، اکیڈمیاں یعنی ملک کے تعلیمی ادارے قائم کئے، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، ویر عبدالحمید، فخرالدین علی احمد، ڈاکٹر ذاکر حسین، بریگیڈیئر عثمان وہ نام ہیں، جنہوں نے ملک کو آگے بڑھانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اس لئے میری سب سے اپیل ہے کہ مجلس کارکنوں کے ساتھ اس مہم میں شامل ہوں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: