உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک کو ملا پہلا نیشنل میری ٹائم سکیورٹی کوآرڈینیٹر، 26/11 حملے کے بعد اٹھی تھی مانگ، ڈوبھال کے ساتھ کریں گے کام

    First National Maritime Security Coordinator -NMSC : ۔ جی۔ اشوک کمار (G. Ashok Kumar) کی تقرری کو 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملے کے بعد سمندری سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت ہند کی جانب سے مسلسل کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    First National Maritime Security Coordinator -NMSC : ۔ جی۔ اشوک کمار (G. Ashok Kumar) کی تقرری کو 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملے کے بعد سمندری سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت ہند کی جانب سے مسلسل کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    First National Maritime Security Coordinator -NMSC : ۔ جی۔ اشوک کمار (G. Ashok Kumar) کی تقرری کو 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملے کے بعد سمندری سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت ہند کی جانب سے مسلسل کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    • Share this:
      حکومت نے وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ Retired) جی۔ اشوک کمار کو ملک کا پہلا نیشنل میری ٹائم سکیورٹی کوآرڈینیٹر این ایم ایس سی (First National Maritime Security Coordinator -NMSC) بنایا گیا ہے۔ جی۔ اشوک کمار (G. Ashok Kumar) کی تقرری کو 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملے کے بعد سمندری سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت ہند کی جانب سے مسلسل کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ غور طلب ہے کہ تقریباً 14 سال قبل سمندری راستے سے آئے دہشت گردوں نے ملک کی مالیاتی راجدھانی ممبئی میں تباہی مچا دی تھی۔ اس حملے کے بعد حکومت سمندری سکیورٹی کو بڑھانے پر مسلسل کام کر رہی ہے۔

      اجیت ڈوبھال کے اندر کام کریں گے۔
      وائس ایڈمرل جی۔ اشوک کمار گزشتہ سال جولائی میں بحریہ کے نائب سربراہ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ انہوں نے 39 سال سے زائد عرصے تک بحریہ میں خدمات انجام دیں۔ وہ قومی سلامتی کونسل کے سکریٹریٹ کے ساتھ تال میل میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ 2021 کے آخر میں حکومت نے کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے ذریعے اس عہدے کی creation کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی تھی۔

      مختلف ایجنسیوں کے درمیان بڑھے گا کوآرڈینیشن
      ٹی او آئی TOI کی ایک رپورٹ کے مطابق، (NMSC) ٹیکنالوجی کے شعبے سمیت میری ٹائم سیکٹر میں مربوط پالیسیوں اور منصوبوں کو بھی یقینی بنائے گی۔ اس کے ساتھ یہ فوج اور سول ایجنسیوں کے درمیان ایک انٹرفیس کا بھی کام کرے گا۔

      آپسی تال میل کی ہے کمی
      ملک میں طویل عرصے سے یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ سمندری سرگرمیوں میں شامل بے شمار افسران، وزارت خارجہ، دفاع، داخلہ اور شپنگ وزارتوں (lack of co-ordination) سے لے کر بحریہ، کوسٹ گارڈ، کسٹمز، انٹیلی جینس ایجنسیوں، بندرگاہوں کے حکام، ریاستی حکومتوں اور میرین پولیس فورسز تک کو آپسی تال میل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

      پہلے بھی ہوئی ہے کوشش
      ملک کی ساحلی پٹی 7,516 کلومیٹر ہے جس میں کئی سمندری اور خصوصی اقتصادی زونز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 90 فیصد تجارت صرف سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ 26/11 کے حملوں کے بعد میری ٹائم سکیورٹی ایڈوائزری بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ اس بورڈ نے انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت مختلف حکام کے درمیان تال میل کی کمی کو اجاگر کیا تھا۔ لیکن سیاسی قوت ارادی اور افسر شاہی کی بے حسی کی وجہ سے اس نے کبھی ترقی نہیں کی۔ سال 2001 میں بھی قومی سلامتی کے نظام میں سدھار کی بات ہوئی تھی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: