ہوم » نیوز » وطن نامہ

مرکزی حکومت کے فیصلہ سے روہنگیا مسلمانوں نے کیا ہریانہ اور کشمیر کی جانب اپنا رخ

مرکزی حکومت کے سخت رویہ کے سبب بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان مغربی بنگال سے ہریانہ اور کشمیر کی جانب جا رہے ہیں

  • Share this:
مرکزی حکومت کے فیصلہ سے روہنگیا مسلمانوں نے کیا ہریانہ اور کشمیر کی جانب اپنا رخ
علامتی تصویر

مرکزی حکومت کے سخت رویہ کے سبب بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان مغربی بنگال سے ہریانہ اور کشمیر کی جانب جا رہے ہیں۔ مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنا کے ہردہا کیمپ سے اب تک تقریباََ 400 روہنگیا مسلمان جا چکے ہیں۔ اس کیمپ میں اب صرف تین خاندانوں کے 12 اراکین ہی بچے ہیں۔ اور وہ بھی جلد ہی ریاست چھوڑ کر جانے کی تیاری میں ہیں۔

قابل غور ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ریاستی حکومتوں کو ان کے یہاں رہنے والے روہنگیا کی شناخت کرنے اور ان کا بایومیٹرک ڈیٹا جمع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مرکزی حکومت روہنگیا بحران کا حل نکالنے کے لئے ریاستوں کے ذریعہ جمع کی گئی بایومیٹرک رپورٹ کو میانمار حکومت کو بھیجےگی۔


تو وہیں دوسری جانب ملک میں رہ رہے روہنگیا مسلمان واپس جانا نہیں چاہتے۔ دیش بچاؤ سماجک کمیٹی کے صدر اور رنگ و روغن کے کاروبار سے وابستہ حسین غازی نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ پولیس کے مظالم اور مرکزی حکومت کے واپس بھیجنے کے فیصلہ سے زیادہ تر روہنگیا ہریانہ اور کشمیر بھاگ گئے ہیں۔

حسین غازی نے مزید کہا کہ میانمار میں ظالمانہ سلوک کے ڈر سے کوئی بھی روہنگیا مسلمان واپس نہیں جانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت کے واپس بھیجنے والے فیصلہ کی مخالفت کرتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس اس بات کی خبر ہے کی جو لوگ آسام سے واپس بھیجے گئے، ان کے ساتھ میانمار میں اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ انہیں بغیر مناسب خراک کے حراست کیمپ میں رکھا گیا ہے۔


مغربی بنگال میں روہنگیا کی موجودہ حالات پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ کچھ مہینہ پہلے تک تقریباَل 400 روہنگیا جنوبی 24 پرگنا کیمپ میں رہتے تھے، لیکن اب صرف تین روہنگیا مسلم خاندان ہی رہ گئےہیں۔ وہ بھی جلد کسی دوسری ریاست میں چلے جائیں گے۔
First published: Oct 16, 2018 07:47 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading