بابری مسجد کے متعلق دیرینہ موقف سے انحراف ’سودے بازی‘ہے: شاہی امام

مولانا بخاری نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ”ایسا اچانک کیا ہوا کہ بابری مسجد کے حوالے سے 300 سو سال سے زائد پرانے موقف سے انحراف کرنا پڑا۔ انحراف ہی نہیں بلکہ دستبرداری کیلئے حلف نامے تک بات پہنچ گئی۔

Oct 16, 2019 04:05 PM IST | Updated on: Oct 16, 2019 04:07 PM IST
بابری مسجد کے متعلق دیرینہ موقف سے انحراف ’سودے بازی‘ہے: شاہی امام

سید احمد بخاری: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ دہلی جامع مسجد کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے بابری مسجد تنازعہ کے تعلق سے مسلمانوں کے دیرینہ موقف میں اچانک تبدیلی کو’کھلی سودے بازی‘ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ اس حقیقت یا مصلحت تک آنے میں اتنی مدت کیوں لگی؟ مولانا بخاری نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ”ایسا اچانک کیا ہوا کہ بابری مسجد کے حوالے سے 300 سو سال سے زائد پرانے موقف سے انحراف کرنا پڑا۔ انحراف ہی نہیں بلکہ دستبرداری کیلئے حلف نامے تک بات پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ مقدمے کی کارروائی اب جب کہ اپنے منطقی انجام سے قریب ترہوچکی تھی اور آج فریقین کی جانب سے دلائل پر بحث مکمل بھی ہونے جارہی تھی حتی کہ چیف جسٹس آف انڈیا کی جانب سے ایسا سننے میں بھی آیا ہے کہ انہیں فیصلہ تحریرکرنے کیلئے تقریبا ایک ماہ کی مدت درکار ہے اتنی واضح صورت حال کی موجودگی میں جس میں پوری ملت اور اس کے عمائدین کی عدالت کے فیصلے کے حوالے سے غیر مشروط آمادگی کا اظہار بھی شامل ہے‘ اس طرح اچانک فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟“ انہوں نے مزید کہا کہ”اس دستبرداری کو مصالحت پسندی کے زمرے میں نہ رکھ کر کھلی سودے بازی قراردی جائے گی‘‘۔

انہو ں نے سوال کیا کہ ”اگربابری  مسجد سے دستبرداری کا یہ فیصلہ قرآن وحدیث، فقہ اسلامی اور اجماع ملت کے پس منظر میں لیاگیا ہے تو آج اچانک یہ ایک ”حقیقت“ بن کرکیوں ابھرا ہے؟ اس حقیقت یا مصلحت کو یہاں تک آنے میں اتنی مدت کیوں لگی؟“

Loading...

Loading...